سوچ ؔ لیں کہ اس سے بڑھ کر اور کیا صفائی کی بات ہوگی کہ ہم مغلوب ہونے کی حالت میں سو روپیہ نقد دینا وعدہ کرتے ہیں اور غالب ہونے کی حالت میں ہم کچھ بھی نہیں مانگتے صرف یہ امید رکھتے ہیں کہ کوئی روح بے راہی کے طریق سے نادم ہوکر سچائی کا طریق اختیار کرے۔ سو اب ہم منتظر رہیں گے کہ کب لالہ مرلیدھر صاحب یا ان کے کوئی اور آریہ بھائی جو اپنی قوم میں امتیاز علمی رکھتے ہوں ایسی درخواست کریں گے۔
تا سیہ روئے شود ہرکہ دروغش باشد۔
قولہ۔ اسی طرح اسلام نے مادہ کی کیفیت کو بھی نہیں سمجھا اور نہ مادی دنیا کو ہی معلوم کیا کہ زمین و سورج و چاند وغیرہ کیا بستو ہیں زمین جو کہ کرہ ہے اس کی حقیقت اور گردش و کشش وغیرہ جو ہے ان سب کے خلاف ہے سارے مسائل اسلام کے ہیں۔
اقول۔ آپ اس خیال پُر اختلال میں بھی سراسر غلطی پر ہیں اور یہ آپ کا قول بالکل جھوٹ اور افترا یا بے خبری یا بے علمی کا تقاضا ہے جو آپ تعلیم قرآنی کی نسبت ایسا خیال کررہے ہیں بلکہ تعلیم قرآنی میں جیسی واقعی اور حقانی طور پر کیفیت روح اور اس کے خواص بیان کئے گئے ہیں ایسا ہی زمین و سورج و چاند وغیرہ مادی اشیا کی نسبت قرآن شریف میں صحیح صحیح اور واقعی بیان مندرج ہے اور ایسے بلند و عمیق اسرار طبعی و ہیئت و طبابت و دیگر لطائف فلسفہ اس میں پائے جاتے ہیں جن کی طرف کسی حکیم یا فلسفی کا ذہن سبقت نہیں لے گیا۔ اگر آپ اس میں بھی کچھ آزمائش کرنا چاہیں تو حسب تحریک آپ کے ہم ایک ہی رسالہ میں جیسا کہ قول گزشتہ میں ہم وعدہ کرچکے ہیں بمراد مقابلہ وید و قرآن یہ دونوں طور کے مسائل یعنی مسائل علم روح و مسائل علم اشیائے مادی قرآن شریف سے لے کر بیان کرسکتے ہیں مگر اسی شرط متذکرہ بالا کے رو سے یعنے یہ کہ جس طرح ہم اپنے بیان میں قرآن شریف سے باہر نہ جائیں ایسا ہی بمقابل ہمارے آپ بھی کردکھائیں اور آپ یاد رکھیں کہ آپ کی ساری باتیں فضول اور نری دعویٰ ہی دعویٰ ہیں۔ ورنہ وید تو خالق اور مخلوق میں بھی فرق نہیں کرسکا پھر دوسری صداقتیں کیا بیان کرے گا ایک وید کا