دونوںؔ طور کے پیدا کرنے میں پیدا شدہ چیزوں کے الگ الگ نام رکھے جاتے ہیں۔ جب خدائے تعالیٰ کسی چیز کو اس طور سے پیدا کرے کہ پہلے اس چیز کا کچھ بھی وجود نہ ہو تو ایسے پیدا کرنے کا نام اصطلاح قرآنی میں امر ہے اور اگر ایسے طور سے کسی چیز کو پیدا کرے کہ پہلے وہ چیز کسی اور صورت میں اپنا وجود رکھتی ہو تو اس طرز پیدائش کا نام خلق ہے خلاصہ کلام یہ کہ بسیط چیز کا عدم محض سے پیدا کرنا عالم امر میں سے ہے اور مرکب چیز کو کسی شکل یا ہوئیؔ ہے اور کوئی چیز بغیر اس کے پیدا نہیں ہوئی اور نہ خودبخود ہے سو اس قدر اعتقاد ابتدائی حالت کے لئے کافی ہے پھر آگے معرفت کے میدانوں میں سیر کرنا جس کو نصیب ہوگا اس پر بعد مجاہدات خود وہ کیفیت کھل جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا یعنی جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کریں گے ہم ان کو وہ اپنی خاص راہیںآپ دکھلا ویں گے جو مجرد عقل اور قیاس سے سمجھ میں نہیں آسکتیں اور درحقیقت خدائے تعالیٰ نے اپنے عجیب عالم کو تین حصہ پر منقسم کررکھا ہے۔ (۱) عالم ظاہر جو آنکھوں اور کانوں اور دیگر حواس ظاہری کے ذریعہ اور آلات خارجی کے توسل سے محسوس ہوسکتا ہے۔ (۲) عالم باطن جو عقل اور قیاس کے ذریعہ سے سمجھ میں آسکتا ہے۔ (۳) عالم باطن در باطن جو ایسا نازک اور لایدرک وفوق الخیالات عالم ہے جو تھوڑے ہیں جو اس سے خبر رکھتے ہیں وہ عالم غیب محض ہے جس تک پہنچنے کے لئے عقلوں کو طاقت نہیں دی گئی مگر ظن محض۔ اور اس عالم پر کشف اور وحی اور الہام کے ذریعہ سے اطلاع ملتی ہے نہ اور کسی ذریعہ سے اور جیسی عادت اللہ بدیہی طور پر ثابت اور متحقق ہے کہ اس نے ان دو پہلے عالموں کے دریافت کرنے کے لئے جن کا اوپر ذکر ہوچکا ہے انسان کو طرح طرح کے حواس و قوتیں عنایت کی ہیں۔ اسی طرح اس