سوچیںؔ تو جتنا شرمندہ ہوں اتنا ہی تھوڑا ہے اسی وجہ سے تو ہم نے آپ کو ایک خاموش درویش کا قصہ سنایا اگر آپ ایسے ایسے فضول اور خام شبہات کے پیش کرنے سے زبان بند رکھتے تو ہمیں آپ کی حیثیت علمی پر وہ شک نہ پڑتا جواب پڑ گیا ہے۔ بالآخر ہم یہ بھی لکھا چاہتے ہیں کہ اگر ماسٹر صاحب کے دل میں یہ خیال ہے کہ قرآن شریف میں علم روح بیان نہیں کیا گیا اور وید میں بیان کیا گیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو کیفیت روح سے
اور ؔ طریقوں پر عمل کیا جائے جن کی پابندی سے وہ چیز مل سکتی ہے۔ غرض عقلمند لوگ عالم کشف کے عجائبات سے انکار نہیں کرتے بلکہ انہیں ماننا پڑتا ہے کہ جس جوادِ مطلق نے عالم اول کے ادنیٰ ادنیٰ امور کے دریافت کرنے کے لئے انسان کو حواس و طاقتیں عنایت کی ہیں وہ تیسرے عالم کے معظم اور عالی شان امور کے دریافت سے جس سے حقیقی اور کامل تعلق خدائے تعالیٰ سے پیدا ہوتا ہے اور سچی اور یقینی معرفت حاصل ہوکر اسی دنیا میں انوار نجات نمایاں ہوجاتے ہیں کیوں انسان کو محروم رکھتا بے شک یہ طریق بھی دوسرے دونوں طریقوں کی طرح کھلا ہوا ہے اور صادق لوگ بڑے زور سے اس پر قدم مارتے ہیں اور اس کو پاتے ہیں اور اس کے ثمرات حاصل کرتے ہیں عجائبات اس عالم ثالث کے بے انتہا ہیں اور اس کے مقابل پر دوسرے عالم ایسے ہیں جیسے آفتاب کے مقابل پر ایک دانہ خشخاش۔ اس بات پر زور لگانا کہ اس عالم کے اسرار عقلی طاقت سے بکلّی منکشف ہوجائیں یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک انسان آنکھوں کو بند کرکے مثلاً اس بات پر زور لگائے کہ وہ قابل رویت چیزوں کو قوت شامہ کے ذریعہ سے دیکھ لے بلکہ عجائبات عالم باطن درباطن سے عقل ایسی حیران ہے کہ کچھ دم نہیں مارسکتی کہ یہ کیا بھید ہے۔ روحوں کی پیدائش