ہیںؔ اور صاف صاف عبارت سے نکلتے ہیں یہی ہیں کہ اے محمدؐ کفار تجھ سے روح کی کیفیت پوچھتے ہیں کہ روح کیا چیز ہے اور کس چیز سے پیدا ہوئی ہے سو ان کو کہہ دے کہ روح امر ربی ہے یعنے عالم امر میں سے ہے اور تم اے کافرو کیا جانو کہ روح کیا چیز ہے کیونکہ علم روح حاصل کرنے کے لئے ایماندار اور عارف باللہ ہونا ضروری ہے مگر ان باتوں میں سے تم میں کوئی بھی بات نہیں۔ اب ہریک منصف سمجھ سکتا ہے کہ نادانی اور شتاب کاری کی آمیزش سے کیا کیا ندامتیں اٹھانی پڑتی ہیں۔ غور کرنا چاہئے کہ ان آیات شریفہ متذکرہ بالا کا کیسا مطلب صاف صاف تھا کہ کفار کی ایک جماعت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے روح کے بارے میں سوال کیا کہ روح کیا چیز ہے تب ایسی جماعت کو جیسا کہ صورت موجودہ تھی بصیغہ جمع مخاطب کرکے جواب دیا گیا کہ روح عالم امر میں سے ہے یعنے کلمۃ اللہ یا ظل کلمہ ہے جو بحکمت و قدرت الٰہی روح کی شکل پر وجود پذیر ہوگیا ہے اور اس کو خدائی سے کچھ حصہ نہیں بلکہ وہ درحقیقت حادث اور بندہ خدا ہے اور یہ قدرت ربانی کا ایک بھید دقیق ہے۔ جس کو تم اے کافرو سمجھ نہیں سکتے۔ * مگر کچھ تھوڑا سا جس کی وجہ سے تم مکلف بایمان ہو۔ یہ ایک سرِ ربوبیت ہے جو کلمات اللہ سے مخلوقات الٰہی پیدا ہوجاتی ہے اس کو اپنی اپنی سمجھ کے موافق ہریک شخص ذہن نشین کرسکتا ہے چاہے اس طرح سمجھ لے کہ مخلوقات کلمات الٰہی کے اظلال و آثار ہیں یا ایسا سمجھ سکتا ہے کہ خود کلمات الٰہی ہی ہیں جو بقدرت الٰہی مخلوقیت کے رنگ میں آجاتے ہیں کلام الٰہی کی عبارت ان دونوں معنے کے سمجھنے کے لئے وسیع ہے اور بعض مواضع قرآن کی ظاہر عبارت میں مخلوقات کا نام کلمات اللہ رکھا گیا ہے جو تجلیات ربوبیت ہے بقدرت الٰہی لوازم و خواص جدیدہ حاصل کرکے حدوث کے کامل رنگ سے رنگین ہوگئے ہیں اور درحقیقت یہ ایک سر ان اسرار خالقیت میں سے ہے جو عقل کے چرخ پر چڑھا کر اچھی طرح سمجھ میں نہیں آسکتے اور عوام