ہوؔ پس اگر اب بھی ماسٹر صاحب کنارہ کرگئے تو کیا یہ اس بات پر دلیل کافی نہیں ہوگی کہ ان کا وید ان کمالات اور خوبیوں اور پاک سچائیوں سے بکلّی عاری اور خالی ہے۔
قولہ۔ مرزا صاحب اور سب اہل اسلام کا یہی اعتقاد ہے اور قرآن میں آیا ہے کہ جب آنحضرت (محمدؐ صاحب) سے لوگوں نے پوچھا کہ روح کیا چیز ہے تو آپ کچھ نہ بتلا سکے اور اس وقت آیت نازل ہوئی کہ اے محمدؐ کہہ دے کہ روح ایک امر ربی ہے سو مسلمانوں نے تو روح کو کیا سمجھا ہوگا خدا نے انکے ہادی پر بھی روح کی کیفیت ظاہر نہیں کی اور خدا کا بھی کیا جواب عمدہ ہے کہ روح امر ربی ہے کیا اور چیزیں امر ربی نہیں۔
اقول اس وقت ماسٹر صاحب کی خوبی فہم اور جلد بازی کا تصور کرکے مجھے ایک حکایت یاد آگئی ہے کہ ایک ایسا شخص کسی شہر میں تھا جو ہمیشہ چپ رہا کرتا تھا آخر اس کی خاموشی سے لوگ اس وہم میں پڑگئے کہ یہ کوئی بڑا فاضل اور دانشمند ہوگا۔ اسی خیال سے ایک جماعت کثیر اس کی خدمت میں حاضر رہنے لگی۔ ایک دن اس شخص نے اپنے دل میں سوچا کہ مجھے اپنی عقلمندی ظاہر کرنے کے لئے کچھ بولنا چاہئے سو جب اس نے دوچار باتیں ہی مونہہ سے نکالیں تو تمام لوگ سمجھ گئے کہ اگر اس شہر میں کوئی اور نادان بھی ہے تو اس سے بڑھ کر کبھی نہ ہوگا۔ تب اس کے اردگرد سے سب بھاگ گئے اور ساری جماعت متفرق ہوگئی اور وہ اکیلا رہ کر بہت دردمند ہوا۔ بڑی مصیبت سے ایک رات کاٹی صبح ہوتے ہی اس شہر سے کہیں کو چلا گیا اور جاتے وقت ایک دیوار پر لکھ گیا کہ اگر میں پہلے اپنی شکل کو آئینہ میں دیکھ لیتا تو نادانی سے اپنا پردہ فاش نہ کرتا۔
اسی طرح ماسٹر صاحب نے بھی اچھا نہیں کیا کہ لاعلمی اور ناواقفیت اور ناسمجھی کی حالت میں اعتراض کرنے کے لئے زبان کھولی۔ لالہ صاحب میں آپ کی غلطیوں کی کہاں تک اصلاح کرتا جاؤں آپ نے یہ کس سے سن لیا کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے علم روح نہیں دیا گیا تھا اور آپ نے