روحیںؔ جو خدائے تعالیٰ کے ہاتھ سے نکلی ہیں اپنے صانع کی سیرت و خصلت سے اجمالی طور پر کچھ حصہ رکھتی ہیں اگرچہ مخلوقیت کی ظلمت و غفلت غالب ہوجانے کی وجہ سے بعض نفوس میں وہ رنگ الٰہی کچھ پھیکا سا ہوجاتا ہے لیکن اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ ہریک روح کسی قدر وہ رنگ اپنے اندر رکھتی ہے اور پھر بعض نفوس میں وہ رنگ بداستعمالی کی وجہ سے بدنما معلوم ہوتا ہے مگر یہ اس رنگ کا قصور نہیں بلکہ طریقہ استعمال کا قصور ہے۔ انسان کی اصلی قوتوں اور طاقتوں میں سے کوئی بھی بری قوت نہیں صرف بداستعمالی سے ایک نیک قوت بری معلوم ہونے لگتی ہے۔ اگر وہی قوت اپنے موقع پر استعمال کی جائے تو وہ سراسر نفع رسان اور خیر محض ہے اور حقیقت میں انسان کو جس قدر قوتیں دی گئی ہیں۔ وہ سب الٰہی قوتوں کے اظلال و آثار ہیں۔ جیسے بیٹے کی صورت میں کچھ کچھ باپ کے نقوش آجاتے ہیں ایسا ہی ہماری روحوں میں اپنے رب کے نقوش اور اس کی صفات کے آثار آگئے ہیں جن کو عارف لوگ خوب شناخت کرتے ہیں اور جیسے بیٹا جو باپ سے نکلا ہے اس سے ایک طبعی محبت رکھتا ہے نہ بناوٹی۔ اسی طرح ہم بھی جو اپنے رب سے نکلے ہیں اس سے فی الحقیقت طبعی محبت رکھتے ہیں نہ بناوٹی اور اگر ہماری روحوں کو اپنے رب سے یہ طبعی و فطرتی تعلق نہ ہوتا تو پھر سالکین کو اس تک پہنچنے کے لئے کوئی صورت اور سبیل نہ تھی سو اگرچہ دلائل مخلوقیت ارواح جن کو اللہ جل شانہٗ نے آپ قرآن شریف میں معقولی طور پر بیان کیا ہے اس کثرت سے ہیں کہ اگر وہ سب اس جگہ لکھے جائیں تو خود انہیں دلائل کی ایک بڑی کتاب ہوجائے گی مگر ہم بالفعل اسی قدر پر کفایت کرتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ طالب حق کے لئے اسی قدر کافی ہے۔ اب ہم اس جگہ ماسٹر صاحب کی خدمت میں بادب عرض کرتے ہیں کہ ہم نے روحوں کی مخلوقیت جس سے ان کی کیفیت بکلی ظاہر ہوتی ہے دلائل مندرجہ قرآن شریف کے رو سے