جوؔ قدرت نے ان کو دے رکھی ہے باہر چلتے جاتے ہیں اور اپنی محدود عقل سے کل کائنات کے عمیق در عمیق رازوں کو حل کرنا چاہتے ہیں سو یہ افراط ہے جیسے بکلی تحقیق و تفتیش سے مونہہ پھیر لینا تفریط ہے اللہ جل شانہٗ فرماتا ہے وَاقْصِدْ فِىْ مَشْيِكَ ی اپنی چال میں توسط اختیار کر۔ نہ ایسا فکر کو منجمد کرلینا چاہئے کہ جو ہزارہا نکات و لطائف الٰہیات قابل دریافت ہیں ان کی تحصیل سے محروم رہ جائیں اور نہ اس قدر تیزی کرنی چاہئے کہ ان فکروں میں پڑجائیں کہ خدائے تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ہے اور یا اس نے اس قدر ارواح اور اجسام کس طرح بنالئے ہیں اور یا اس نے کیونکر اکیلا ہونے کی حالت میں اس قدر وسیع عالم بنا ڈالا ہے۔ اور اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ ارواح کا حادث اور مخلوق ہونا قرآن شریف میں بڑے بڑے قوی اور قطعی دلائل سے بیان کیا گیا ہے چنانچہ برعایت ایجاز و اجمال چند دلائل ان میں سے نمونہ کے طور پر اس جگہ لکھے جاتے ہیں۔ اول یہ بات بہ بداہت ثابت ہے کہ تمام روحیں ہمیشہ اور ہرحال میں خدائے تعالیٰ کی ماتحت اور زیر حکم ہیں اور بجز مخلوق ہونے کے اور کوئی وجہ موجود نہیں جس نے روحوں کو ایسے کامل طور پر خدائے تعالیٰ کی ماتحت اور زیر حکم کردیا ہو سو یہ روحوں کے حادث اور مخلوق ہونے پر اول دلیل ہے۔ دوم یہ بات بھی بہ بداہت ثابت ہے کہ تمام روحیں خاص خاص استعدادوں اور طاقتوں میں محدود اور محصور ہیں جیسا کہ بنی آدم کے اختلاف روحانی حالات و استعدادات پر نظر کرکے ثابت ہوتا ہے اور یہ تحدید ایک محدد کو چاہتی ہے جس سے ضرورت محدث کی ثابت ہوکر (جو محدد ہے) حدوث روحوں کا بہ پایۂ ثبوت پہنچتا ہے۔ سوم یہ بات بھی کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ تمام روحیں عجز و احتیاج کے داغ سے آلودہ ہیں اور اپنی تکمیل اور بقا کے لئے ایک ایسی ذات کی محتاج ہیں جو کامل اور قادر اور