صفتؔ محدود ہوجائے گی اور صفت کا محدود ہونا ذات باری کے محدود ہونے کو مستلزم ہے۔ بھلا وہ خدا کیسا ہوا جس کی ساری قدرتوں پر ایک ذرّہ مخلوق محیط ہوجائے۔ اور ایسا پرمیشر کس بات کا پرمیشر ہے کہ اگر وہ کسی اپنے امر متخیّل کو کہے کہ ہوجا تو کچھ بھی نہ ہو۔ خدا تو اسی ذات عجیب القدرت کا نام ہے کہ جو اس کے ارادہ سے سب کچھ ہوجاتا ہے۔ جب وہ اپنے کسی امر مقصود کو کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ فی الفور اس کی قدرت کاملہ سے نقش وجود پکڑ جاتا ہے یہ راز نہایت دقیق معرفت کا نکتہ ہے کہ سب مخلوقات کلمات الٰہیہ ہیں۔ عیسائیوں نے جب اپنی نادانی سے یہ کہنا شروع کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کلمۃ اللہ ہیں یعنے ان کی روح کلمہ الٰہی ہے جو متشکل بروح ہوگئی ہے تو خدائے تعالیٰ نے اس کا یہ حقانی جواب دیا کہ کوئی بھی ایسی روح نہیں جو کلمۃ اللہ نہ ہو اور مجرد الٰہی حکم سے نہ نکلی ہو قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّىْ اسی کی طرف اشارہ ہے اور یہ بات جو کلمات اللہ بصورت ارواح و دیگر مخلوق جلوہ گر ہوجاتی ہیں یہ خالقیت کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے اور اسرار الٰہیہ میں سے ایک باریک نکتہ ہے جس کی طرف کسی انسانی عقل کو خیال نہیں آیا اور خدائے تعالیٰ کے پاک اور کامل کلام نے اس کو اپنے الٰہی نور سے منکشف کیا ہے اور اگر ایسا نہ مانا جائے تو خدائے تعالیٰ اپنے ہی کلمہ اور امر سے ارواح اور اجسام کو وجود پذیر کرلیتا ہے۔ تو پھر آخر یہ ماننا پڑے گا کہ جب تک باہر سے اجسام اور روحیں نہ آویں پرمیشر کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ مگر کیا ایسا کم بخت پرمیشر ہوسکتا ہے کہ جو درحقیقت اپنے گھر سے تو دیوالیہ اور مفلس اور تہیدست ہے لیکن کسی عارضی اتفاق سے اس کی خدائی کا دھندا چل رہا ہو۔ اگر پرمیشر ایسا ہی ہے تو سب امیدیں خاک میں مل گئیں اور ایسے پرمیشر پر بھروسہ کرنا بھی بڑا معرض خطر ہوگا۔ اور یہ کہنا کہ خدائے تعالیٰ کی وہی قدرت قابل تسلیم ہے جو ہماری سمجھ میں آجائے۔ ہم نہیں جانتے کہ اس کا نام جہالت رکھیں یا تعصب یا دیوانگی۔ اگر خدائے تعالیٰ کی قدرتوں میں یہ بھی شرط ہے کہ انسان کے اندازۂ فہم سے زیادہ نہ ہوں تو بس پھر اس کی قدرتیں