غرضؔ سے مکتی کے ملنے میں ایسی دشواریاں ڈال دیں ہیں جو ممکن ہی نہیں کہ آپ لوگ ان سے مخلصی پاسکیں بھلا جب ایک گناہ کے لئے ایک لاکھ اور کئی ہزار جون کی سزا ٹھہری اور ایک طرفۃ العین یعنے ایک پلکارہ بھی خدائے تعالیٰ سے غافل ہونا گناہ ٹھہرا تو پھر مکتی پانے کی کون سی راہ باقی رہی۔ سو اگر آپ لوگ حقیقت حال کو سوچیں تو اپنی نوامیدی کی حالت کو دیکھ کر ماتم کریں اور سوگ میں بیٹھیں کیونکہ پرمیشر نے تو ایک طرح سے مکتی دینے سے آپ لوگوں کو جواب دے دیا ہے کیونکہ نہ نومن تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔ کیا اس زندگی موجودہ میں کوئی شخص آپ لوگوں میں سے دعویٰ کرسکتا ہے کہ میں نے کبھی کسی قسم کا گناہ نہیں کیا نہ صغیرہ نہ کبیرہ اور نہ کبھی جھوٹ زبان پر آیا۔ اور نہ کبھی کسی کو زبان یا ہاتھ یا آنکھ وغیرہ سے ستایا اور نہ کبھی مال ناجائز کھایا اور نہ کبھی ایک سیکنڈ بھی اپنے پرمیشر کو بھلایا اور نہ کسی اور قسم کا گناہ یا بدخیال دل میں آیا۔ میں جانتا ہوں کہ ایسا دعویٰ کرنا ممکن ہی نہیں تو پھر کسی آئندہ جون کا بھی اسی پر قیاس کرلیجئے کیونکہ اس دارالغفلت دنیا میں گناہ انسان کی فطرت کو لگا ہوا ہے اور جیسے فطرتی خواص اس موجودہ زندگی میں آپ سے الگ نہیں ہوسکے ایسا ہی کسی آئندہ جون میں دنیا میں آکر ان فطرتی خواص کا بکلی دور ہوجانا ممتنع اور محال ہے۔ بعض موٹی سمجھ کے آدمی جن کو بہ باعث اپنی نادانی اور نقصان علمی کے گناہ کی فلاسفی معلوم نہیں وہ شاید بوجہ اپنے کمال درجہ کی سادہ لوحی کے ایسا خیال کرتے ہوں گے کہ گویا گناہ انہیں دوچار باتوں کا نام ہے کہ انسان ارتکاب زنا یا خون یا شہادت دروغی پر دلیری کرے یا کسی جگہ سیندہ لگاوے یا کسی کی گانٹھُ کترلے اور پھر جب ان چند معدود اور مشہور جرائم کو چھوڑ دے تو پھر گناہ سے بکلّی پاک اور صفا ہوگیا اور اپنے پرمیشر کو کہہ سکتا ہے کہ اب تیرے حقوق سب میں نے ادا کردیئے اور جو کچھ کرنا میرے پر واجب تھا سب کچھ میں کر گزرا۔ لیکن درحقیقت یہ خیال سراسر غلط بلکہ بھاری گناہ ہے جو انسان اپنے تئیں بے گناہ اور