میںؔ مکتی پاجائے گا تو پھر بھی مکتی پانا نہ پانا اس کا برابر ہوگا کیونکہ صرف تھوڑے عرصہ تک مکتی خانہ میں پتھر کی طرح پڑا رہے گا۔ اور پھر جیسا کہ ہم ابھی بیان کرچکے ہیں پرمیشر اپنی تلون مزاجی سے اس پر ناحق ناراض ہوکر سخت ذلیل اور رسوا کرکے اس کو باہر نکال دے گا اور چوروں کی طرح ہاتھوں میں اس کے مجبوری کی ہتھکڑی ہوگی اور پاؤں میں روک کا زنجیر اور گردن میں پرمیشر کی خفگی کا ایک بڑا لمبا رسّا ہوگا اور پھر اس نیک بخت کو خواہ وہ اوتار ہو یا کوئی ایسا رشی ہو جس پر کوئی وید اترا ہے یا کوئی دوسرا رکھی منی یا بھگت غرض کوئی ہو اس کو کھینچتے کھینچتے دنیا کے اسی گڑھے میں الٹا کر پھینک دیں گے جس سے وہ بیچارہ کروڑوں برس بلکہ ہزاروں ارب تک جان مار کر اور روپیٹ کر اتفاقاً نکل آیا تھا یہ آپ لوگوں کا پرمیشر ہے اور یہ اس کی مکتی ہے اور یہ اس کا انعام و اکرام ہے اور یہ اس کا ابتدا و انجام ہے۔ سو ایسے پرمیشر کو دور سے ہی سلام ہے۔ ایسے پرمیشر کے یہ شعر مطابق حال ہے۔
بادوستاں چہ کردی کہ کنی بدیگراں ہم
حقا کہ واجب آمدزِ تو احتراز کردن
اور اگر ماسٹر صاحب کا اعتراض سے یہ مطلب ہے کہ اسلامی بہشت میں صرف دنیوی نعمتوں کا ذکر ہے وصال الٰہی اور روحانی لذّ ات کا کہیں ذکر نہیں تو ہم اس جھگڑے کے فیصلہ کرنے کے لئے یہ عمدہ طریق سمجھتے ہیں کہ ماسٹر صاحب کسی اخبار کے ذریعہ سے پختہ طور پر ہم کو یہ اطلاع دیں کہ ہاں میری یہی رائے ہے کہ قرآن شریف میں وصالِ الٰہی اور لذّاتِ روحانی کا کہیں ذکر نہیں مگر وید میں ایسا بہت کچھ ذکر ہے تو اس صورت میں ہم وعدہ کرتے ہیں کہ صرف تین یا چار ہفتہ تک ایک مستقل رسالہ اسی بارہ میں بغرض مقابلہ وید و قرآن طیار کرکے جہاں تک ہوسکے بہت جلد چھپوا دیں گے اور سو روپیہ بطور انعام ایک نامی اور فاضل برہمو صاحب کے پاس جو آریوں کے بھائی بند ہے امانت رکھ دیں گے پھر اگر ماسٹر صاحب بپابندی اپنے چاروں ویدوں کی سنگتا کے جن کو وہ الہامی