اورؔ بڑی ذلت اور رسوائی سے بقول شخصے کہ (پابدست دگرے دست بدست دگرے) مکتی خانہ سے باہر پھینکے جائیں گے تو کیا اس وقت ان کے لئے وہ سُرگ نرگ کا نمونہ بلکہ اس سے بدتر نہیں ہوجائے گا تو پھر اس مجبورانہ مصیبت کے وقت خودمختاری کہاں رہے گی اور انند کیسا ہوگا آپ کہتے ہیں کہ نجات شدہ لوگ بڑی خوشی اور انند میں رہیں گے افسوس ہے آپ کی سمجھ پر۔ کیا ایسے مقام میں بھی کوئی کامل خوشی میسر آسکتی ہے جس میں نکالے جانے اور پھر دوہری مرتبہ کروڑہا برسوں کی مصیبتوں کا دغدغہ درپیش ہے اور ہردم یہی فکر جان کو کھارہا ہے کہ اب تھوڑے عرصہ کے بعد بے شمار ذلتوں اور رسوائیوں کا مونہہ دیکھنا ہوگا۔ پھر کیڑے مکوڑے کتے بلے بننا ہوگا۔ پھر ایک گناہ کے بدلے میں لاکھوں جونیں بھگتنی ہوں گی اور زمانہ دراز اور مدت غیر معین تک دکھوں دردوں کو اٹھانا ہوگا۔ کیا جس کو اس قدر یقینی اور قطعی طور پر غم درپیش ہے اور غم بھی کیسا غم کہ لاعلاج۔ وہ بھی خوش رہ سکتا ہے سو آپ کس مونہہ سے کہہ سکتے ہیں کہ جس مکتی خانہ کا وید نے ذکر کیا ہے وہ بڑی انند اور خودمختاری اور خوشی کی جگہ ہے آپ کے مکتی خانہ سے خدا کی پناہ اگر ایسا ہی پرمیشر اور ایسا ہی اس کا مکتی خانہ ہے تو پھر بدقسمت زاہدوں عابدوں کے لئے اِس جگہ بھی رونا اور اُس جگہ بھی رونا ہی ہوگا۔
رہا آپکا یہ اعتراض کہ مسلمانوں کی بہشت میں دنیوی نعمتیں بھی موجود ہوں گی تو یہ کچھ اعتراض کی بات نہیں بلکہ اس سے تو آپکو اور آپکے پرمیشر کو بہت شرمندہ ہونا چاہیئے کیونکہ مسلمانوں کے خداوند قادر اور غنی مطلق نے تو دائمی اور جاودانی طور پر سب کچھ اپنے بے انتہا خزانوں سے عالم آخرت میں قرآن شریف پر ایمان لانے والوں کو عطا کیا ہے اور روحانی اور جسمانی دونوں طور کی نعمتیں مرحمت فرمائیں کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کے سچے پرستار اس دنیا میں صرف روح ہی سے اس کی بندگی اور اطاعت نہیں کرتے بلکہ روح اور جسم دونوں سے کرتے ہیں اور خلقت انسانی کا کمال