دیتے ؔ ہیں۔
اے زِ تعلیم وید آوارہ
منکر از فیض بخش ہموارہ
آں قدیرے کہ نیست زُوچارہ
نزد تو عاجزست وناکارہ
بشنوی گر بود بحق روئے
شور قَالُوا بلٰی زِہر سوئے
آنکہ باذات او بقاؤ حیات
چوں نبا شد بدیع ماآں ذات
ناتوانی ست طور مخلوقات
کے خدا ایں چنیں بود ہیئات
کے پسندد خرد کہ ربّ قدیر
ناتواں باشد وضعیف وحقیر
نظرے کن بشانِ ربانی
داوری ہا کن بنادانی
یں چہ دین است و آئین ست
کہ خدا ناتوا ن و مسکین است
گربدیں دین و کیش ہستی شاد
مایۂ عمر را دہی برباد
قولہ۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ (آریہ سماج والوں کے اعتقاد کے رو سے) مکتی شدہ شخص مکتی خانہ سے نکالا جاتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ آریہ سماج کے اصولوں کے موافق کوئی مکتی خانہ علیحدہ عمارت نہیں۔
اقول۔ سبحان اللہ کیا عمدہ جواب ہے۔ اعتراض تو یہ تھا کہ روحوں کو انادی اور قدیم اور پرمیشر کی طرح واجب الوجود اور غیر مخلوق ماننے سے پرمیشر ایسا کمزور اور مجبور ٹھہر جاتا ہے کہ وہ کسی طرح روحوں کو دائمی نجات دینے پر قادر نہیں ہوسکتا گو ارادہ بھی کرے۔ کیونکہ دائمی نجات دینے سے اس کی خدائی کا سلسلہ دور ہوتا ہے آپ اس کا جواب دیتے ہیں کہ مکتی خانہ کوئی علیحدہ عمارت نہیں جس سے نکالا جائے۔ ناظرین سوچ سکتے ہیں کہ یہ کس قسم کا جواب ہے جس حالت میں آریوں کا بالاتفاق یہ اصول ہے کہ ہمیشہ کے لئے کسی کی مکتی نہیں ہوسکتی کوئی اوتار ہو یا رشی ہو یامنی ہو بلکہ کچھ مدت تک نجات دے کر پھر اس دارالنجات سے دارالتناسخ کی طرف بھیجے جاتے ہیں اور مختلف جونوں میں گردش کرتے کرتے کیڑے مکوڑوں تک نوبت پہنچتی ہے تو پھر کیا یہ اصول ماسٹر صاحب کو یاد نہیں یا دانستہ لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں اور اگر ماسٹر صاحب کو لفظی نزاع کے طور پر یہ اعتراض ہے کہ مکتی خانہ کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا ہے۔ کیا کوئی