بیٹھا ؔ رہے اور کیا کرسکتا ہے تو اس صورت میں وہ اصول آریہ سماج والوں کا جو دنیا کا سلسلہ ہمیشہ بنا رہتا ہے کیونکر قائم رہ سکتا ہے اب ظاہر ہے کہ آپ لوگوں کے اعتقاد کے رو سے پرمیشر کی بادشاہت صرف غیر مخلوق روحوں کے سہارے سے چل رہی ہے اور اگر یہ کہو کہ پرمیشر روحوں کو کبھی جاودانی مکتی نہیں دے گا تو پھر کیونکر سلسلہ دنیا کا منقطع ہوگا اور کیونکر پرمیشر مجبور ہوکر خالی بیٹھے گا۔ تو ہم کہتے ہیں کہ ایرا دِ اعتراض کے لئے محض فرض کرنا نجات ابدی کا جو امور ممکنہ میں داخل ہے کافی ہے کیونکہ فن فلسفہ میں امور جائز الوقوع میں صرف ان کے فرض وقوع پر بحث کی جاتی ہے نہ تحقق فی الخارج میں فلسفی کو اس سے کچھ غرض نہیں کہ وہ امر وقوع میں آیا یانہ آیا بلکہ فلسفی قطع نظر وقوع لاوقوع سے صرف مادہ جواز پر برہان قائم کرتا ہے مثلاً فلسفی کہتا ہے کہ اگر زید ایک تولہ زہر کھالے تو بے شک مرے گا کیونکہ صدہا مرتبہ کا تجربہ صحیحہ و صادقہ اس بات پر شہادت دے رہا ہے پس اس کے جواب میں یہ معارضہ کہ زید نے عہد کیا ہوا ہے کہ میں ہرگز زہر نہیں کھاؤں گا ۔ حجت کو اٹھا نہیں سکتا کیونکہ گو زید زہر کھانا نہیں چاہتا اور فرض کیا کہ اس نے عہد کیا ہوا ہے کہ میں ہرگز زہر نہیں کھاؤں گالیکن عندالعقل اس کا زہر کھانا اور مرنا ممکن ہے اسی واسطے صناعت منطق میں قضیہ ضروریہ مطلقہ کو قضیہ دائمہ مطلقہ سے اخص مطلق قرار دیا گیا ہے۔ مثلاً یہ قضیہ کہ ہریک انسان بالضرورت حیوان ہے یعنے حیوانیت ہریک انسان کے وجود کو صفت ضروری ہے کہ جو اس کے وجود سے مُنفِک نہیں ہوسکتی یہ قضیہ ضروریہ مطلقہ ہے اور یہ دوسرا قضیہ کہ زید جو وکیل ہے ہمیشہ مقدمہ میں فتح پاتا ہے دائمہ مطلقہ ہے پس یہ جو دائمہ مطلقہ ہے قضیہ ضروریہ مطلقہ سے اسی واسطے اس کا اخص سمجھا جاتا ہے کہ گو فتح پانا زید کا مثل مفہوم ضروریہ مطلقہ کے جمیع اوقات میں پایا جاتا ہے اور ہمیشہ زید مقدمہ کو جیتتا ہے لیکن اس کا جیتنا اور فتح پانا عندالعقل ضروری نہیں برخلاف قضیہ ضروریہ مطلقہ کے کہ اس میں دوام نسبت حیوانیت کا انسان سے جو موضوع قضیہ کا ہے ضروری ہے کیونکہ عقل ہارنا اور شکست کھانا زید کا تجویز کرسکتی ہے گو اب تک ایک ظاہری