میںؔ سے کوئی بات بھی قائم نہیں رہ سکتی اور ایک ایسا سخت صدمہ اس کی شان خدائی پر پہنچتا ہے کہ اس میں کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔
ایک ادنیٰ درجہ کی عقل بھی سمجھ سکتی ہے کہ خدائے تعالیٰ کے ایک ہونے کے یہی معنے ہیں کہ درحقیقت وجود اسی کا وجود ہے اور باقی سب چیزیں اس سے نکلی ہیں اور اسی کے ساتھ قائم اور اسی کے رشحاتِ فیض سے اپنے کمالات مطلوبہ تک پہنچتی ہیں مگر افسوس کہ آریوں کا علم الٰہی اس کے برخلاف بتلا رہا ہے ان کی کتابیں انہیں واویلوں سے ُ پر ہیں کہ ہم بھی پرمیشر کی طرح قدیم اور غیر مخلوق اور انادی اور اس کی مشابہ اور اپنے اپنے وجود کے آپ خدا ہیں نہیں سوچتے کہ اگر وہ بھی قدیم الذّات اور قائم بذاتہ ٖ اور واجب الوجود ہیں تو پھر خدا جیسے ہوکر اس کی ماتحت کیوں ہوگئے اور کس نے درمیان میں ہوکر دونوں میں تعلق پیدا کردیا افسوس کہ ان لوگوں نے عقیدہ باطلہ وید سے ایسی محبت کی ہے کہ خدائے تعالیٰ کی عظمت اور کمالیت کے لئے ذرہ غیرت باقی نہیں رہی اور اس عقیدۂ مذکورہ بالا کے بدتر اثر نے ان کا کچھ باقی نہیں چھوڑا اور اسی بداعتقاد کا بداثر جاودانی نجات کا بھی رہزن ہوا ہے اور اسی کی نحوست سے آریہ مت کے دفتر میں ایک ہنگامہ مفاسد برپا ہورہا ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ کی ذات و صفات کو صحیح یا غلط طور پر جاننا ایک ایسا امر ہے کہ اس کا اثر (جیسا کہ ہو) تمام باقی اصولوں پر پڑتا ہے اگر اس میں صلاحیت ہو تو دوسرے اصول بھی صلاحیت رکھتے ہیں اور اگر اس میں فساد ہو تو وہ فساد دوسرے اصولوں میں بھی سرائت کرتا ہے اسی جہت سے اس اصل الاصول کے بگڑنے سے آریوں کے سب عقائد کی ستیاناس ہوئی ہے اور سب خیالات کو اس ایک ہی بگڑے ہوئے خیال نے تہ و بالا کردیا ہے اور اب جب تک اس کی اصلاح نہ ہو تب تک باقی خراب شدہ خیالات کسی نوع سے درستی پر نہیں آسکتے اب حقیقت میں آریوں کو بڑی مشکل پیش آگئی ہے اب ان دونوں وید اور پرمیشر سے ایک کو ضرور چھوڑنا پڑے گا۔