پرمیشرؔ ان سب کو مکتی دے دے تو پھر ہمیشہ دنیا پیدا کرنے کا سلسلہ بند ہوجاتا ہے کیونکہ جو روح مکتی پاکر مکتی خانہ میں گیا وہ تو گویا ہاتھ سے گیا اور بہ باعث نہ ہونے آمدن اور روزمرہ کے خرچ کی آخر سب روح ایک دن ختم ہوجائیں گے اور پھر پرمیشر دنیا پیدا کرنے سے قاصر اور عاجز رہے گا اور یہ امر خلاف اصول آریہ سماج ہے غرض آریہ صاحبوں کے اصول کے بموجب نہ پرمیشر کی توحید اور عظمت قائم رہتی ہے اور نہ مکتی یافتہ روح کبھی ناگہانی آفت سے نجات پاسکتے ہیں بلکہ اس شخص کی طرح جس کو ایک دورہ خاص پر مرگی کی بیماری پڑتی ہے ایسا ہی روحیں بھی ایک قسم کی بیماری میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے اور جیسے جیسے مکتی خانہ سے نکالنے کا وقت نزدیک آتا جائے گا ویسا ہی جزع فزع میں مبتلا ہوتے جائیں گے خداوند کریم جل شانہٗ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ فَاِنَّ الْجَـنَّةَ هِىَ الْمَاْوٰىؕ‏ یعنی جو شخص اپنے پروردگار سے ڈر کر تزکیہ نفس کرے اور ماسوائے اللہ سے مونہہ پھیر کر خدائے تعالیٰ کی طرف رجوع لے آئے تو وہ جنت میں ہے اور جنت اس کی جگہ ہے یعنے خود ایک روحانی جنت بباعث قوت ایمانی و حالت عرفانی اس کے دل میں پیدا ہوجاتی ہے جو اس کے ساتھ رہتی ہے اور وہ اس میں رہتا ہے سو اس جگہ ماسٹر صاحب سے یہ بھی درخواست کرتا ہوں کہ بہ مقابل اس آیت قرآنی کے جو جاودانی اور لازوالی مکتی پر دلیل پیش کرتی ہے جو کچھ وید میں محدود مکتی کا فلسفہ بتلایا گیا ہے وہ شرتی بھی اس جگہ پیش کردیں۔ ۱۴؍ مارچ ۸۶ ؁ء جواب لالہ مرلیدھر صاحب معہ جواب الجواب از طرف مؤ لفِ رسالہ ہذا قولہ۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ آریہ سماج والوں کا اعتقاد یہ ہے کہ پرمیشر نے کوئی روح پیدا نہیں کی اور کل ارواح انادی اور قدیم اور غیر مخلوق ہیں ایسا ہی ان کا یہہ بھی اعتقاد ہے کہ مکتی یعنے نجات ہمیشہ کے لئے کسی انسان کو نہیں مل سکتی بلکہ ایک مدّت مقررہ تک مکتی خانہ میں رکھ کر پھر اس سے نکالا جاتا ہے یہ بیان مرزا صاحب کا