میں ؔ حجاب ہوگیا اور جب حجاب ہوا تو پرمیشر سرب گیانی نہ ہوسکا یعنے علم غیب پر قادر نہ ہوا۔ اور جب قادر نہ رہا تو اس کی سب خدائی درہم برہم ہوگئی تو گویا پرمیشر ہی ہاتھ سے گیا اور یہ بات ظاہر ہے کہ علم کامل کسی شے کا اس کے بنانے پر قادر کردیتا ہے اس لئے حکماء کا مقولہ ہے کہ جب علم اپنے کمال تک پہنچ جائے تو وہ عین عمل ہوجاتا ہے اس حالت میں بالطبع سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا پرمیشر کو روحوں کی کیفیت اورُ کنہ کا پورا پورا علم بھی ہے یا نہیں اگر اس کو پورا پورا علم ہے تو پھر کیا وجہ کہ باوجود پورا پورا علم ہونے کے پھر ایسی ہی روح بنا نہیں سکتا سو اس سوال پر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ پرمیشر روحوں کے پیدا کرنے پر قادر نہیں بلکہ ان کی نسبت پورا پورا علم بھی نہیں رکھتا۔ دوسرا ٹکڑہ ہمارے سوال کا حق العباد سے متعلق ہے یعنے یہ کہ آریہ صاحبان کے اعتقاد مذکورہ بالا کے رو سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پرمیشر اپنے بندوں سے بھی ناحق کا ایک بخل رکھتا ہے کیونکہ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ مکتی اور نجات کی اصل حقیقت یہی ہے کہ انسان ماسوائے اللہ کے محبت سے مونہہ پھیر کر پرمیشر کی محبت میں ایسا محو ہوجائے کہ جس طرح عاشق اپنے محبوب کے دیکھنے سے لذت اٹھاتا ہے ایسا ہی اپنے محبوب حقیقی کے تصور سے لذت اٹھائے اور محبت بجز معرفت حاصل نہیں ہوسکتی اور قاعدہ کی بات ہے کہ موجب محبت کے دو ہی امر ہیں یا حُسن یا احسان پس جب انسان بہ باعث اپنی کامل معرفت کے خدائے تعالیٰ کے حُسن و احسان پر اطلاع کامل طور پر پاتا ہے تو لامحالہ اس سے کامل محبت پیدا ہوجاتی ہے اور کامل محبت سے لذت ملتی ہے پس اسی جہان سے بہشتی زندگی عارف کی شروع ہوجاتی ہے اور وہی معرفت اور محبت عالم آخرت میں سرور دائمی کا موجب ہوجاتی ہے جس کو دوسرے لفظوں میں نجات سے تعبیر کرتے ہیں۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ جب ایک شخص کو پورا پورا سامان نجات کا میسر آگیا اور پرمیشر کی کرپا اور فضل سے مکتی پاگیا تو پھر کیوں پرمیشر اس کو ناکردہ گناہ مکتی خانہ سے باہر نکالتا ہے کیا وہ اس بات سے چڑتا ہے کہ کوئی عاجز بندہ ہمیشہ کے لئے آرام پاسکے جس حالت میں ابدی بقا کے