مباؔ حثہ ثانیہ
منعقدہ ۱۴؍ مارچ ۱۸۸۶ ء
اعتراض از طرف مؤلفِ رسالہ ہذا
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
آریہ صاحبوں کا اعتقاد ہے کہ پرمیشر نے کوئی روح پیدا نہیں کی بلکہ کل ارواح انادی اور قدیم اور غیر مخلوق ہیں ایسا ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مکتی یعنے نجات ہمیشہ کے لئے انسان کو نہیں مل سکتی بلکہ ایک مدت مقررہ تک مکتی خانہ میں رکھ کر پھر اس سے باہر نکالا جاتا ہے۔ اب ہمارا اعتراض یہ ہے کہ یہ دونوں اعتقاد ایسے ہیں کہ ایک کے قائم ہونے سے تو خدائے تعالیٰ کی توحید بلکہ اس کی خدائی ہی دور ہوتی ہے اور دوسرا اعتقاد ایسا ہے کہ بندۂ وفادار پرناحق کی سختی ہوتی ہے تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اگر تمام ارواح کو اور ایسا ہی اجزاء صغار اجسام کو قدیم اور انادی مانا جائے تو اس میں کئی قباحتیں ہیں منجملہ ان کے ایک تو یہ کہ اس صورت میں خدائے تعالیٰ کے وجود پر کوئی دلیل قائم نہیں ہوسکتی کیونکہ جس حالت میں بقول آریہ صاحبان ارواح یعنے جیو خودبخود موجود ہیں اور ایسا ہی اجزاء صغار اجسام بھی خودبخود ہیں تو پھر صرف جوڑنے جاڑنے کے لئے ضرورت صانع کی ثابت نہیں ہوسکتی بلکہ ایک دہریہ جو خدائے تعالیٰ کا منکر ہے عذر پیش کرسکتا ہے کہ جس حالت میں تم نے کل چیزوں کا وجود خودبخود بغیر ایجاد پرمیشر کے آپ ہی مان لیا ہے تو پھر اس بات پر کیا دلیل ہے کہ ان چیزوں کے باہم جوڑنے جاڑنے کے لئے پرمیشر کی حاجت ہے؟ دوسری یہ قباحت کہ