جامہؔ ندارم دامن از کجا آرام۔ ہاں اپنے ہی گناہوں کا آپ کو شکرگزار ہونا چاہئے جنہوں نے آپ کو گوؤوں کا دودھ پلایا۔ گھوڑوں پر چڑھایا۔ غرض سب آپ کا کام بنایا اور سب کچھ کیا اور کرایا۔ حقیقت میں اس مسئلہ تناسخ نے آپ کو بہت کچھ فائدہ پہنچایا۔ اگر اس سے کچھ نقصان پہنچا تو بس یہی کہ ایک تو پرمیشر ہاتھ سے گیا اور دوسرا حلال حرام کا کچھ ٹھکانا نہ رہا۔ خیر پرمیشر کا تو آپ کو کیا افسوس ہوگا گزارہ تو چلا ہی جاتا ہے۔ مگر جو حلال حرام میں گڑبڑ پڑگیا یہ خرابی ایک دنیادار غیرت مند کی نظر میں بھی جس کو ایک ذرہ ننگ وناموس کا پاس ہو قابل برداشت نہیں کیونکہ اگر مسئلہ تناسخ صحیح ہے تو اس کے رو سے ممکن ہے کہ کسی شخص کی والدہ یا دختر یا حقیقی بہن یا دادی یا نانی مرنے کے بعد کسی عورت کی جون میں پڑکر پھر اسی شخص کے نکاح میں آجائے جس کی ماں یا لڑکی ہے اور دنیا جو ایک ظلمت گاہ اور بے تمیزی کی جگہ ہے اس میں کون آکر خبر دے سکتا ہے کہ اے بھلے مانس اس سے شادی مت کر یہ تو تیری ماں یا بہن یا دادی یا نانی ہے۔ سو سوچ کر دیکھ لینا چاہئے کہ اس اواگون کے مسئلہ نے صرف آپ کے پرمیشر کی عزت پر ہی ہاتھ نہ ڈالا بلکہ ایسے ایسے ضرر بھی اس میں موجود ہیں اور بلاشبہ جو شخص اس مسئلہ تناسخ کو روا اور جائز سمجھتا ہے اس کو اس کے بدنتائج بھی روا اور جائز کہنے پڑیں گے۔ مگر ہائے افسوس جو لوگ دنیا کے پرستار ہیں اور قومی تعصبوں کی زنجیر میں گرفتار وہ اپنے بدعقیدوں کو کسی ڈھب چھوڑنا نہیں چاہتے۔ قوم کا رعب ان کے دلوں پر ایسا غالب ہے کہ جو مخلوق پرستی کی حد تک پہنچ گیا ہے خدائے تعالیٰ کا ان کے دلوں میں اتنا بھی قدرنہیں جو ایک بوڑھی عورت کو اپنے گھر کی سوئی کا ہوتا ہے۔ دنیا کی حرص و آز میں کیا کچھ نہ کرتے ہیں نقصاں جو ایک پیسہ کا دیکھیں تو مرتے ہیں زر سے پیار کرتے ہیں اور دل لگاتے ہیں ہوتے ہیں زر کے ایسے کہ بس مر ہی جاتے ہیں جب اپنے دلبروں کو نہ جلدی سے پاتے ہیں کیا کیا نہ ان کے ہجر میں آنسو بہاتے ہیں پر ان کو اس سجن کی طرف کچھ نظر نہیں آنکھیں نہیں ہیں کان نہیں دل میں ڈر نہیں