پڑےؔ تو آپ کی باربرداری کا کام چلے پھر اگر کوئی ایسا بڑا کام کرے جس کی سزا میں اس کو عورت کی جون میں ڈالا جائے تو آپ لوگوں کو جورو نصیب ہو۔ اور اگر کوئی ایک شخص کسی شامت گناہ سے مرے تب وہی روح اس کی بیٹا یا بیٹی بن کر آپ کو صاحب اولاد بنائے۔ اس سے ثابت ہوا کہ بموجب اصول آپ کے تمام سلسلہ خدائی کا گناہوں کے طفیل ہی چل رہا ہے۔ اور اگر گناہ ظہور میں نہ آتے تو پرمیشر تو کچھ چیز ہی نہیں تھا اور اس کی قدرتیں اور حکمتیں سب ہیچ اور بے حقیقت تھیں۔ پس آپ کو تو قانون قدرت کا نام ہی نہیں لینا چاہئے کیونکہ قانون قدرت کا تو یہ ضروری تقاضا ہے کہ تمام اجزائے عالم بحکم اس واضح قانون کے روزِ ازل سے باہم انضباط یافتہ ہیں یہ نہیں کہ کسی اتفاقی شامت سے یہ ہزاروں قسم کی مخلوقات پیدا ہوگئی ہے اور اگر وہ بلااتفاق نہ ہوتا تو پیدا ہونے سے رہ جاتے اور پرمیشر گو کیسا ہی ان چیزوں کے پیدا کرنے کے لئے ارادہ کرتا مگر کچھ بھی نہ ہوسکتا۔ غرض جب آپ کا ایمان
نہیںؔ اور پھر خودبخود اس کے اندر میں ہی سے کچھ تغیر پیدا ہوکر اس قدر کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں کہ گویا وہ سب جسم کیڑے ہی کیڑے ہیں اس سے ظاہر ہے کہ ارواح کو اجسام سے ایک لازمی اور دائمی تعلق پڑا ہوا ہے اب جو شخص تناسخ یعنے اواگون کا قائل ہے ضرور اس کو کہنا پڑے گا کہ اجسام نباتی و معدنی و حیوانی و اجرام علوی کا ایک ایک ذرّہ کسی وقت انسان کا روح تھا کیونکہ جیسا کہ تجربہ ثابت کررہا ہے۔ ایک ایک ذرّہ جسم سے ایک ایک روح تعلق رکھتا ہے اور اجرام علوی میں روحوں کا ہونا شائد ناواقفوں کی نظر میں تعجب کا محل ہوگا لیکن حال کے فلسفیوں کی تحقیقاتوں نے کھول دیا ہے کہ کرۂ شمس و قمر وغیرہ جانداروں کی آبادی سے خالی نہیں چنانچہ پنڈت دیانند اور اس کے پیرو بھی اس بات کے قائل ہیں سو یہ بات تو ہریک کو معلوم ہے کہ جس کرہ میں کوئی جاندار چیز ہو وہ اسی کرہ کے مادّہ