پیدا ؔ کرکے اجزائے عالم کو باہم انضباط بخشا ہے اور محض اپنی قدرت کاملہ سے اور خاص اپنے ہی ارادہ اور مشیت سے تمام چیزوں مادی و غیر مادی کو ایک پرحکمت سلسلہ انتظام میں خود اپنی حکیمانہ مصلحت سے منسلک کیا ہے تو یہی مان لینا جس کا نام دوسرے لفظوں میں قانون قدرت ہے آپ کے اصول تناسخ کی بیخ کنی کرتا ہے وجہ یہ کہ آپ کا مسئلہ تناسخ اس بنا پر کھڑا کیا ہے کہ یہ ترتیب عالم جو بالفعل موجود ہے پرمیشر کے ارادہ اور قدرت سے نہیں اور نہ اس کی حکمت اور مصلحت سے بلکہ گنہگارو ں کے گناہ نے یہ مختلف صورتوں کی چیزیں پیدا کردی ہیں جس میں پرمیشر کا ذرا دخل نہیں مثلاً گائے جو دودھ دیتی ہے۔ یا گھوڑا جو سواری کے کام آتا ہے یا گدھا جو بوجھ اٹھاتا ہے۔ یا زمین جس پر ہم آباد ہیں۔ یا چاند اور سورج جو دو چمکتے ہوئے چراغ اپنی مختلف قوتوں اور خاصیتوں سے انواع اقسام کے فوائد دنیا کو پہنچاتے ہیں۔* یا گیہوں اور چنے اور چانول وغیرہ ماکولات جن کو ہم کھاتے ہیں
شاؔ ئد کسی ناواقف آریہ کو اس جگہ دھوکا لگے کہ آریہ سماج والے اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ روح بطور تناسخ چاند یا سورج یا زمین وغیرہ سے بھی تعلق پکڑلیتی ہے بلکہ وہ ان چیزوں کو جڑ یا بے جان سمجھتے ہیں تو اس کے جواب میں ماننا چاہئے کہ اول تو آریوں کا ایسا خیال کرنا کہ سورج و چاند و زمین و اگنی و وایو وغیرہ یہ سب بے روح چیزیں ہیں جن میں جان نہیں ہے سراسر غلط اور وید کی تعلیم سے بھی منافی ہے کیونکہ وید کے صدہا مقامات سے ثابت ہے کہ سورج چاند اور اگنی وغیرہ ارکان اولیہ عالم کے لئے ایک ایک روح ہے ان روحوں کے یونانی و مجوسی بھی قائل ہیں ایسا ہی دنیا کے تمام تناسخیہ فرقے ان ارواح کو مانتے ہیں۔ بلکہ ان کا بیان ہے کہ جب انسانی روح سورج و چاند و ستاروں وغیرہ سے تعلق پکڑتی ہے تو پھر وہ دیوتا بن کر قابل پرستش ہوجاتی ہے اسی وجہ سے تو قدیم سے