واقعہؔ شق القمر جو معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم تھا لکھا گیا اور بسوامتر کا نام صرف بے جا طور کی تعریف پر جیسا کہ قدیم سے ہندوؤں کے اپنے بزرگوں کی نسبت عادت ہے درج کیا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کی شہرت ہندوؤں میں مؤلف تاریخ فرشتہ کے وقت میں بھی بہت کچھ پھیلی ہوئی تھی کیونکہ اس نے اپنی کتاب کے مقالہ یازدہم میں ہندوؤں سے یہ شہرت یافتہ نقل لے کر بیان کی ہے کہ شہر دہار کہ جو متصل دریائے پہنبل صوبہ مالوہ میں واقع ہے اب اس کو شاید دہارا نگری کہتے ہیں وہاں کا راجہ اپنے محل کی چھت پر بیٹھا تھا ایکبارگی اس نے دیکھا کہ چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور پھر مل گیا اور بعد تفتیش اس راجہ پر کھل گیا کہ یہ نبی عربی صلی اللہ علیہ و سلم کا معجزہ ہے تب وہ مسلمان ہوگیا۔ اس ملک کے لوگ اس کے اسلام کی وجہ یہی بیان کرتے تھے اور اس گرد نواح کے ہندوؤں میں یہ ایک واقعہ مشہور تھا جس بنا پر ایک محقق مؤلف نے اپنی کتاب میں لکھا۔ بہرحال جب آریہ دیس کے راجوں تک یہ خبر شہرت پاچکی ہے اور آریہ صاحبوں کے مہابہارتہہ میں درج بھی ہوگئے اور پنڈت دیانند صاحب ُ پرانوں کے زمانہ کو داخل زمانہ نبوی سمجھتے ہیں اور قانون قدرت کی حقیقت بھی کھل چکی تو اگر اب بھی لالہ مرلیدھر صاحب کو شق القمر میں کچھ تامل باقی ہو تو ان کی سمجھ پر ہمیں بڑے بڑے افسوس رہیں گے۔
قولہ قرآن میں لکھا جانا تاریخی ثبوت نہیں ورنہ دنیا میں جس قدر جدے جدے مذاہب والے اپنے اپنے دیوتاؤں وغیرہ کی نسبت عجائبات بیان کرتے ہیں وہ سب سچے ہوجائیں گے۔
اقول اے ماسٹر صاحب افسوس کہ تعصب کے جوش نے آپ کی کہاں تک نوبت پہنچا دی کہ آپ کی نظر میں قرآنی واقعات عام لوگوں کے مزخرفات کے برابر ہوگئے۔ ایسی باتیں جن کو لوگ بے ٹھکانہ اور بے بنیاد اپنے دیوتاؤں وغیرہ کی نسبت سینکڑوں یا ہزاروں