یہودیؔ مجوسی وغیرہ ہیں وہ قرآنی شہادتوں سے یعنی ان واقعات سے جو قرآن شریف نے اپنے زمانہ کے متعلق لکھے ہیں انکار نہیں کرسکتے ہاں تعصب کی راہ سے بعض آیات کے معنے اور طور پرکرلیتے ہیں مثلاً شق القمر میں وہ آپ کی طرح یہ نہیں کہتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ امر خلاف واقعہ قرآن شریف میں لکھ دیا ہے۔ چنانچہ اس بات کی تو آپ بھی شہادت دے سکتے ہیں کہ آپ نے تمام عمر میں کوئی ایسی کتاب کسی فاضل انگریز یا یہودی کی نہیں دیکھی ہوگی جس میں انہوں نے آپ کی طرح یہ رائے ظاہر کی ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک جھوٹا دعویٰ شق القمر کا قرآن میں لکھ دیا ہے کیونکہ جو فاضل قسیس اور باخبر انگریز ہیں وہ لوگ بباعث اپنی عام اور وسیع واقفیت کے خوب جانتے ہیں کہ جس طور اور التزام سے قرآن شریف نے اشاعت پائی ہے اور جس تشدد سے مخالفوں اور موافقوں کی نگرانی اس کی آیت آیت پر رہی ہے اور جس ُ سرعت اور جلدی سے اس کے ہریک مضمون کی تبلیغ لاکھوں آدمیوں کو ہوتی رہی ہے اور جس قلیل عرصہ میں جو بعد زمانۂ نبوی تیس برس سے بھی کم تھا وہ دنیا کے اکثر حصوں میں شہرت پاگیا ہے وہ ایسا طور اور طریق چاروں طرف سے محفوظ ہے کہ اس میں یہ گنجائش ہی نہیں کہ کوئی جھوٹا معجزہ یا کوئی جھوٹی پیش گوئی افترا کرکے قرآن شریف میں درج ہوسکتی جس کے افترا پر عیسائیوں یہودیوں عربوں مجوسیوں میں سے کسی کو بھی اطلاع نہ ہوتی۔ اسی وجہ سے اگرچہ آج تک صدہا فاضل انگریزوں نے بوجہ شدت عناد بہت کچھ مخالفانہ حملے اپنی کتابوں اور تفسیروں میں قرآن شریف پر کرنے چاہے ہیں جن میں وہ باطل پر ہونے کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوسکے مگر یہ رائے جو آپ نے بیان کی آج تک ان میں سے کسی نے بھی نہیں کی۔ سو آپ کا ایسی کتاب کو مؤرخانہ وقعت سے باہر سمجھنا اور جوہر صافی اور خس و خاشاک برابر خیال کرلینا اور صاف صاف فرق دیکھ کر اپنی آنکھ پر پردہ ڈال لینا صرف نظر کا گھاٹا