نے کیوں نہیں لکھاؔ ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کوئی معمولی درویش یا گوشہ نشین نہیں تھے تا یہ عذر پیش کیا جائے کہ ایک فقیر صلح مشرب جس نے دوسرے مذاہب پر کچھ حملہ نہیں کیا چشم پوشی کے لائق تھا بلکہ آں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اپنے عام مخالفین کا جہنمی ہونا بیان کرتے تھے اس صورت میں مطلق طور پر جوش پیدا ہونے کے موجبات موجود تھے۔ ماسوا اس کے یہ بھی کچھ ضروری معلوم نہیں ہوتا کہ واقعہ شق القمر پر جو چند سیکنڈ سے کچھ زیادہ نہیں تھا ہر یک ولایت کے لوگ اطلاع پاجائیں کیونکہ مختلف ملکوں میں دن رات کا قدرتی تفاوت اور کسی جگہ مطلع ناصاف اور ُ پرغبار ہونا اور کسی جگہ ابر ہونا ایسا ہی کئی اور ایک موجبات عدم رویت ہوجاتے ہیں اور نیز بالطبع انسان کی طبیعت اور عادت اس کے برعکس واقع ہوئی ہے کہ ہر وقت آسمان کی طرف نظر لگائے رکھے بالخصوص رات کے پرؔ روحوں کے باہم ملنے سے طیار ہوگیا ہو اور دیکھنے اور ٹٹولنے میں آسکتا ہو۔ سو یہ دیانند صاحب کا پوچ خیال ہے کہ روح بھی پرمانوہی ہے۔ ماسوا اس کے ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ جز لا یتجزی دلائل عقلیہ اور ہندسیہ سے باطل ہے اور اس کے ابطال پر ایک آسان دلیل یہ ہے کہ اگر جز لایتجزی یعنے پر مانو (پرکرتی) کو دو چیزوں کے درمیان رکھا جائے تو ضرور ہے کہ وہ دونوں چیزیں اطراف مخالف سے اس کو مس کریں گی اور یہ امر تقسیم کو ثابت کرنے والا ہے۔ دوسرے یہ کہ نقطہ بھی جز لا یتجزی ہے اور بموجب اُصول موضوعہ علمِ ہندسہ کے ہم کو اختیار ہے کہ ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ تک خط مستقیم کھینچ لیں مثلاً ہم مختار ہیں کہ نقاط ا اور ب میں ا۔۔۔۔ب ایک ایسا خط مستقیم کھینچ لیں جس کاُ کل مجموعہ گیاراں نقطے ہوں پھر بعد اس کے ہم یہ بھی اختیار رکھتے ہیں کہ بموجب شکل دہم مقالہ اولیٰ تحریر اقلیدس اس خط محدود کی تنصیف کریں۔ سو ظاہر ہے