صلیؔ اللہ علیہ و سلم جنہوں نے عام اور علانیہ طور پر یہ دعویٰ مشہور کردیا تھا کہ میرے ہاتھ سے معجزہ شق القمر وقوع میں آگیا ہے اور کفار نے اس کو بچشم خود دیکھ بھی لیا ہے مگر اس کو جادو قرار دیا اپنے اس دعویٰ میں سچے نہیں تھے تو پھر کیوں مخالفین آنحضرت جو اسی زمانہ میں تھے جن کو یہ خبریں گویا نقارہ کی آواز سے پہنچ چکی تھیں چپ رہے اور کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے مواخذہ نہ کیا کہ آپ نے کب چاند کو دو ٹکڑے کرکے دکھایا اور کب ہم نے اس کو جادو کہا اور اس کے قبول سے مونہہ پھیرا اور کیوں اپنے مرتے دم تک خاموشی اختیار کی اور مونہہ بند رکھا یاں تک کہ اس عالم سے گزر گئے کیا ان کی یہ خاموشی جو ان کی مخالفانہ حالت اور جوش مقابلہ کے بالکل برخلاف تھی اس بات کا یقین نہیں دلاتے کہ کوئی ایسی سخت روک تھی جس کی و جہ سے کچھ بول نہیں سکتے تھے مگر بجز ظہور سچائی کے اور کون سی روک تھی یہ معجزہ مکہ میں ظہور میں آیا تھا اور مسلمان ابھی بہت کمزور اور غریب اور عاجز تھے پھر تعجب یہ کہ ان کے بیٹوں یا پوتوں نے بھی انکار میں کچھ زبان کشائی نہ کی حالانکہ ان پر واجب و لازم تھا کہ اتنا بڑا دعویٰ اگر افترا محض تھا اور صدہا کوسوں میں مشہور ہوگیا تھا اس کی ردّ میں
مضمونؔ مذکورہ بالا ستیارتھ پرکاش میں کسی جگہ نہیں۔ افسوس اس روز ناحق آپ نے ہمارے اوقات کو ضائع کیا اور اپنی علمی حیثیت کا پردہ پھاڑا اور آج آپ ہی جھوٹے نکلے۔ ہر کہ باصادقاں آویخت آبروئے خودریخت۔
اب آپ سوچ لیں کہ آپ کے پنڈت صاحب ویددان نے کیسا ایک ناقص خیال خلاف عقل و خلاف تجارب طبعی و طبابت ظاہر کیا ہے تمام عقلا جانتے ہیں کہ روح کا تعلق صرف بچہ کی والدہ سے نہیں ہوتا بلکہ والد اور والدہ دونوں سے ہوتا ہے اور روحانی اخلاق کا افاضہ بچہ کے وجود پر والدین کی طرف سے ہوتا ہے نہ ان میں سے ایک کی طرف سے ۔ ہاں اگر پنڈت صاحب یہ کسی بوٹی وغیرہ پر گرتی ہے جس کو مرد اور عورت دونوں کھالیتے ہیں اور دونوں منیوں میں روح کا عرق مخلوط ہوجاتا ہے تب بھی کچھ بات تھی مگر اس جگہ یہ شبہ پیدا ہوگا کہ کیا رُوح آدھی آدھی ہوکر گرتی ہے اور اگر ایسا ہی ہے تو پھر دو ٹکڑے