کےؔ دلوں میں اٹھتے ہیں کہ جو خدائے تعالیٰ کو اپنے جیسا ایک ضعیف اور کمزور اور محدود الطاقت خیال کرلیتے ہیں اگر خدائے تعالیٰ پر اس قسم کے اعتراضات وارد ہوسکتے ہیں تو پھر کسی طور سے عقل تسلی نہیں پکڑسکتی کہ یہ بڑے بڑے اجرام علوی و سفلی کیونکر اور کن ہتھیاروں سے اس نے بنا ڈالے۔ قولہ ممالک غیر اور اقوام غیر کی تاریخ میں ایسی بڑی بات کا ذکر (یعنی شق القمر کا ذکر) ضرور چاہئے۔ اقول میں کہتا ہوں کہ آپ اپنے اسی قول سے ملزم ٹھہرسکتے ہیں کیونکہ جس حالت میں چاند کے دو ٹکڑہ کرنے کا دعویٰ زور شور سے ہوچکا تھا یہاں تک کہ خاص قرآن شریف میں مخالفوں کو الزام دیا گیا کہ انہوں نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا اور اعراض کرکے کہا کہ یہ پکا جادو ہے۔ اور پھر یہ دعویٰ نہ صرف عرب میں بلکہ اسی زمانہ میں تمام ممالک روم و شام و مصر و فارس وغیرہ دور دراز ممالک میں پھیل گیا تھا تو اس صورت میں یہ بات کچھ تعجب کا محل نہ تھا کہ مختلف قومیں جو مخالف اسلام تھیں وہ دم بخود اور خاموش رہتیں اور بوجہ عناد صاؔ حب کی کارروائیوں میں اس قسم کی خیانتیں بہت تھیں کہ ایک بات کو اپنے منہ سے نکالنا یا چھپوا دینا اور جب اس کا جھوٹا ہونا ثابت ہوجائے تو فی الفور منکر ہوجانا اور پھر طبع شدہ کتاب کی ترمیم کرکے دوسری کتاب چھپوانا۔ اب ہم اصل مقصود کی طرف رجوع کرکے ستیارتھ پرکاش کا وہ مقام لکھتے ہیں جس کے لکھنے کا ماسٹر مرلیدھر صاحب کو وعدہ دیا گیا تھا اور وہ یہ ہے۔ ستیارتھ پرکاش ۱۸۷۵ ؁ء آٹھواں سمولاس صفحہ ۲۶۳۔ سوال جنم اور موت وغیرہ کس طرح سے ہوتے ہیں۔ جواب لنگ شریر یعنے جسم دقیق (روح) اور ستہول شریر جسم کثیف باہم مل کر جب ظاہر ہوتے ہیں تب اس کا نام جنم یعنے پیدائش ہوتا ہے۔ اور دونوں کی علیحدگی سے غائب ہوجانے کو موت کہتے ہیں۔ سو اس طرح سے ہوتا ہے کہ روح اپنے اعمال کے نتائج سے گردش کرتی