نہ آؔ وے اسی کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا
اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ
نزدیک آگئی وہ گھڑی اور پھٹ گیا چاند۔ اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ روز ازل سے حکیم مطلق نے ایک خاصہ مخفی چاند میں رکھا ہوا تھا کہ ایک ساعت مقررہ پر اس کا انشقاق ہوگا اور یہ ظاہر ہے کہ نجوم اور شمس اور قمر کے خواص کا ظہور ساعات مقررہ سے وابستہ ہے اور ساعات کو حدوث عجائبات سماوی و ارضی میں بہت کچھ دخل ہے اور حقیقت میں قوانین قدرتیہ کا شیرازہ انہیں ساعات سے باندھا گیا ہے سو کیا عمدہ اور پرحکمت اور فلسفیانہ اشارہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے آیت مندرجہ بالا میں فرمایا کہ چاند کے پھٹنے کی جو ساعت مقرر اور مقدر تھی وہ نزدیک آگئی اور چاند پھٹ گیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ اس آیت کے آگے بھی فرماتا ہے
وَكَذَّبُوْا وَاتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَكُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ
خیالؔ ہے کہ وہ براہمن پشتک ہے اور تین ویدوں میں اس کا کہیں ذکر نہیں۔ خیر یہ جھگڑا ہمارے اس وقت کے بحث سے متعلق نہیں صرف یہ ظاہر کرنا تھا کہ پنڈت دیانند قائم الرائے آدمی نہیں تھا اور فطرت سے ان کو ایک موٹی عقل ملی تھی جس کی وجہ سے وہ دوسروں کی باتوں کو تو کیا سمجھتے اپنی رائے کے آخری نتائج سے بھی اکثر بے خبر رہتے تھے یہی وجہ تھی کہ ان کے خیالات ایک ہی مرکز پر قائم نہیں رہ سکتے تھے۔ اوائل میں ان کی یہ رائے تھی کہ تناسخ باطل ہے چنانچہ یہ رائے ان کی ایک مرتبہ وکیل ہند امرتسر میں بھی چھپی تھی پھر اسی اخبار میں لکھا تھا کہ اب پنڈت صاحب فرماتے ہیں کہ اب میں نے عقیدہ تناسخ کو اختیار کرلیا ہے گو پہلے نہیں تھا پھر چاندؔ اپور کے مباحثہ پر جو ان کی طرف سے ایک رسالہ نکلا تھا اس میں انہوں نے مکتی جاودانی کا صاف اقرارکیا تھا چنانچہ اب تک رسالہ موجود ہے اور جب سوال کیا گیا کہ اگر مکتی جاودانی ہے تو پھر روح کسی نہ کسی دن مکتی پاکر ختم ہوجائیں گے کیونکہ پرمیشر میں تو یہ قدرت