کےؔ رو سے شق القمر پر اعتراض کرنا یہ بالکل غلط اور سراسر سمجھ کا پھیر ہے عقلمندی یہ ہے کہ قانون قدرت جو ہنوز انسانی دفتروں میں غیر مکمل ہے اس کو ہمیشہ عجائبات جدید الظہور کا تابع رکھنا چاہیے نہ یہ کہ جو عجائبات خواص عالم نئے نئے کھلتے جائیں ان کو باوجود ثبوت کے اس وجہ سے رد کردیں کہ جو کچھ آج تک ہمیں معلوم ہے یہ اس سے زائد امر ہے۔ اس سے زیادہ تر کون سی فضول گوئی اور بے سمجھی ہوگی کہ اپنے چند روزہ اور محدود اور مشتبہ تجربہ کو خدائے تعالیٰ کا مکمل قانون قدرت خیال کر بیٹھیں اور پھر جو آئندہ اسرار کھلتے جائیں ان کو اس بنا پر خلاف قانون قدرت سمجھ لیں کہ وہ ہمارے معلومات سابقہ سے زیادہ ہیں مجھے یقین ہے کہ آپ نے اس رسالہ کے مقدمہ مذکورہ بالا کو پڑھ کر سمجھ لیا ہوگا کہ قانون قدرت کیا چیز ہے اور کس حالت میں کسی امر کو کہہ سکتے ہیں
غلطیؔ ہوئی مگر وہ سمجھنا کچھ اپنی لیاقت سے نہیں بلکہ لوگوں کے اعتراضات بارش کی طرح چاروں طرف سے برس کر متنبہ کرتے تھے اور اسی نقصان فہم کی وجہ سے پنڈت دیانند کا اپنی تمام زندگی میں یہ طریق رہا ہے کہ اول ایک بات کا دعویٰ کرنا کہ یہ مسئلہ وید کا ہے اور ہمارے ویدوں میں یوں ہی لکھا ہے اور پھر اس کو کسی رسالہ وغیرہ میں چھپوا دینا اور پھر جس وقت دانشمند لوگ اس پر اعتراض کرکے اس کا باطل ہونا کھول دیں اور لاجواب کردیں تو پھر اس مسئلہ سے گریز کرجانا اور یہ عذر پیش کردینا کہ جو کچھ لکھا گیا ہے وہ ہمارا قصور نہیں ہے بلکہ سہو کاتب ہے چنانچہ پہلے انہوں نے اپنے ستیارتھ پرکاش میں جو وید بھاش کے مشتہر کرنے سے پہلے لکھی گئی ہے صفحہ ۴۲ میں لکھا تھا کہ پتھروں میں سے جو کوئی جیتا ہو اس کا ترپن نہ کرے اور جتنے مر گئے ہوں ان کا تو ضرور کرے اور اس پر چند فوائد اور دلائل بھی بیان کئے تھے لیکن پھر مدت کے بعد انہوں نے اشتہار دیا کہ یہ سہو کاتب ہے۔