پائیؔ نہیں جاتی۔ ہاں بعض امور دقیقہ برتر از عقول ناقصہ ہیں جو کمال معرفت کی حالت میں منکشف ہوجاتے ہیں مگر آپ کے مذہب میں تو ہزاروں باتیں خلاف عقل اور خلاف شان الوہیت پائی جاتی ہیں تو پھر آپ دوسروں پر کیونکر اعتراض کرسکتے ہیں۔ پس اسی قدر کافی ہے۔ ماسٹر صاحب کا جواب الجواب معہ اس کی ردّ کے قولُہٗ مرزا صاحب میرے سے حدیث یا آیت مانگتے ہیں اور ساتھ ہی قرآن کی آیت تحریر فرما کر اقرار کرتے ہیں کہ قمر کے دو ٹکڑے حضرت نے کئے۔ اقول صاحب من میں نے چاند کے دو ٹکڑے ہونے پر تو آپ سے کسی آیت یا حدیث کہ ؔ وہ بہرحال اپنے الٹے کو سیدھا اور دوسرے کے سیدھے کو الٹا خیال کرتے ہیں تو قصہ کوتاہ کرنے کی غرض سے ان کو کہا گیا کہ جب ہم یہ بحث شائع کریں گے تو اس مقام پر ستیارتھ پرکاش کا حوالہ بھی ضرور لکھ دیں گے چنانچہ ماسٹر صاحب نے جب تک یہ اقرار تحریری نہ لکھا لیا تب تک صبر نہ آیا سو آج وہ روز ہے جو ہم اس وعدہ کو پورا کریں اور دیکھیں کہ ماسٹر صاحب کس قدر انسانی غیرت کو کام میں لاکر شرمندہ اور منفعل ہوتے ہیں۔ لیکن اوّل اس بات کا کھول دینا ازبس ضروری ہے کہ جس حالت میں ستیارتھ پرکاش میں وہ مضمون جس کا حوالہ دیا گیا تھا صاف درج تھا تو پھر کیوں ماسٹر صاحب نے اس کے اندراج سے صاف انکار کیا اور اس کے مطالبہ میں اس قدر بے جا ضد کی کہ بہت سے وقت کو کھویا جس سے ہمارا حق بالمقابل اعتراض کرنے کا بہت سا ضائع ہوا اس کا سبب تین میں سے ایک ہے یا تو یہ کہ ابھی ماسٹر صاحب کو اپنے مذہب کی کتابوں کی کچھ خبر ہی نہیں صرف دیکھا دیکھی بحث کرنے کا شوق ہوگیا ہے یا دوسرا سبب یہ بھی ہوسکتا ہے