بلکہؔ عورت اور مرد دونوں کی منی سے پیدا ہوتا ہے اور اس کے اخلاق روحانی بھی صرف ماں سے مشابہت نہیں رکھتے بلکہ ماں اور باپ دونوں سے مشابہت رکھتے ہیں تو پھر یہ اعتقاد کس قدر نامعقول اور خلاف عقل ہے کہ گویا ایک عورت کی غذا میں ہی وہ روح مخلوط ہوکر کھائی جاتی ہے اور مرد اس سے محروم رہ جاتا ہے۔ پھر سوچنا چاہیئے کہ کیا روح کوئی جسم کی قسم ہے کہ جسم سے مخلوط ہوجاتی ہے دیکھو کس قدر یہ اصول بعید از عقل ہے۔ ماسوا اس کے زمین کے نیچے سے ہزاروں جانور زندہ نکلتے ہیں اور بہت سی چیزوں میں سینکڑوں برسوں کے بعد کیڑے پڑجاتے ہیں ان چیزوں میں کہاں سے اور کس راہ سے روح آجاتی ہے۔ غرض اگر آپ یہ دعویٰ نہ کرتے کہ جو امر بظاہر برتر از عقل معلوم ہو وہ خدائے تعالیٰ کی قدرت سے بعید ہے تو ہمیں کچھ ضرور نہ تھا کہ آپ پر
کےؔ بحث کے متعلق ایک فضول جھگڑا شروع کردیا اور چند سطریں مندرجہ ذیل لکھ کر اور ان پر اپنے دستخط کرکر جلسہ عام میں ایک بڑے جوش سے کھڑے ہوکر سنائیں اور وہ یہ ہیں۔
آج پہلے اس کے کہ میں کوئی نیا سوال پیش کروں مرزا صاحب کی پہلے روز کی تقریر میں سے وہ حصہ جو انہوں نے فرمایا ہے کہ ستیارتھ پرکاش میں لکھا ہے کہ روحیں اَوس وغیرہ پر پھیلتی ہیں اور عورتیں کھاتی ہیں تو آدمی پیدا ہوتے ہیں پیش کرتا ہوں یہ ستیارتھ پرکاش میں کسی جگہ نہیں اگر ہے تو ستیارتھ پرکاش َ میں دیتا ہوں اس میں سے نکال کر دکھلاویں تاکہ سچ اور جھوٹ کی نرتی لوگ کرلیں۔ ۱۴؍ مارچ ۱۸۸۶ء۔ مرلیدھر ڈرائینگ ماسٹر۔
اس کے جواب میں اول تو میں نے یہ کہا کہ پہلے روز کی تقریر اسی روز کے ساتھ ختم ہوئی۔ آپ پر لازم تھا کہ اسی روز جھگڑا شروع کرتے اب یہ کیونکر اس جلسہ بحث میں