تو اس صورت میں اس وقت کے منکرین پر لازم تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے مکان پر جاتے اور کہتے کہ آپ نے کب اور کس وقت چاند کو دو ٹکڑے کیا اور کب اس کو ہم نے دیکھا لیکن جس حالت میں بعد مشہور اور شائع ہونے اس آیت کے سب مخالفین چپ رہے اور کسی نے دم بھی نہ مارا تو صاف ظاہر ہے کہ انہوں نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے ضرور دیکھا تھا تب ہی تو ان کو چون و چرا کرنے کی گنجائش نہ رہی غرض یہ بات بہت صاف اور ایک راست طبع محقق کے لئے بہت فائدہ مند ہے کہ قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کوئی جھوٹا معجزہ بحوالہ اپنے مخالفوں کی گواہی کے لکھ نہیں سکتے تھے اور اگر کچھ جھوٹ لکھتے تو ان کے مخالف ہم عصر اور ہم شہر اس زمانہ کے اسے کب پیش جانے دیتے۔ علاوہ اس کے سوچنا چاہئے کہ وہ مسلمان لوگ جن کو یہ آیت سنائی گئی اور سنائی جاتی تھی وہ بھی تو ہزاروں آدمی تھے اور ہریک شخص اپنے دل سے یہ محکم گواہی پاتا ہے کہ اگر کسی پیر یا مرشد یا پیغمبر سے کوئی امر محض دروغ اور افترا ظہور میں آوے تو سارا اعتقاد ٹوٹ جاتا ہے اور ایسا شخص ہر ایک شخص کی نظر میں برا معلوم ہونے لگتا ہے، اس صورت میں صاف ظاہر ہے کہ اگر یہ معجزہ ظہور میں نہیں آیا تھا اور افترا محض تھا تو چاہئے تھا کہ ہزارہا مسلمان جو آنحضرت پر ایمان لائے تھے ایسے کذب صریح کو دیکھ کر یکلخت سارے کے سارے مرتد ہوجاتے لیکن ظاہر ہے کہ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی ظہور میں نہیں آئی پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ معجزہ شق القمر ضرور وقوع میں آیا تھا۔ ہریک منصف اپنے دل میں سوچ کر دیکھ لے کہ کیا تاریخی طور پر یہ ثبوت کافی نہیں ہے کہ معجزہ شق القمر اسی زمانہ میں بحوالہ شہادت مخالفین قرآن شریف میں لکھا گیا اور شائع کیا گیا اور پھر سب مخالف اس مضمون کو سن کر چپ رہے کسی نے تحریر یا تقریر سے اس کا ردّ نہ کیا اور ہزاروں مسلمان اس زمانہ کی رویت کی گواہی دیتے رہے اور یہ بات ہم مکرر لکھنا چاہتے ہیں کہ قدرت اللہ پر اعتراض کرنا خود ایک وجہ سے انکار خدائے تعالیٰ ہے کیونکہ اگر خدائے تعالیٰ