ہےؔ اور دوسرے یہ کہ آستین میں سے چاند کے دو ٹکڑے ہوکر نکل جانا صریح عقل کے برخلاف ہے۔ اس کے جواب میں واضح ہو کہ یہ اعتراض کہ کیونکر چاند دو ٹکڑے ہوکر آستین میں سے نکل گیا تھا یہ سراسر بے بنیاد اور باطل ہے کیونکہ ہم لوگوں کا ہرگز یہ اعتقاد نہیں ہے کہ چاند دو ٹکڑے ہوکر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی آستین میں سے نکلا تھا اور نہ یہ ذکر قرآن شریف میں یا حدیث صحیح میں ہے اور اگر کسی جگہ قرآن یا حدیث میں ایسا ذکر آیا ہے تو وہ پیش کرنا چاہیئے۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ جیسے کوئی آریہ صاحبوں پر یہ اعتراض کرے کہ آپ کے یہاں لکھا ہے کہ مہان دیوجی کی لٹوں سے گنگا نکلی ہے۔ پس جس اعتراض کی ہمارے قرآن یا حدیث میں کچھ بھی اصلیت نہیں اس سے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ ماسٹر صاحب کو اصول اور کتب معتبرہ اسلام ؔ سے کچھ بھی واقفیت نہیں۔ بھلا اگر یہ اعتراض ماسٹر صاحب کا کسی اصل صحیح پر مبنی ہے تو لازم ہے کہ ماسٹرؔ صاحب اسی جلسہ میں وہ آیت قرآن شریف پیش کریں جس میں ایسا مضمون درج ہے یا اگر آیت قرآن نہ ہو تو کوئی حدیث صحیح ہی پیش کریں جس میں ایسا کچھ بیان کیا گیا ہو اور اگر بیان نہ کرسکیں تو ماسٹر صاحب کو ایسا اعتراض کرنے سے متندم ہونا چاہئے کیونکہ منصب بحث ایسے شخص کے لئے زیبا ہے جو فریق ثانی کے مذہب سے کچھ واقفیت رکھتا ہو باقی رہا یہ سوال کہ شق قمر ماسٹر صاحب کے زعم میں خلافِ عقل ہے جس سے انتظام ملکی میں خلل پڑتا ہے یہ ماسٹر صاحب کا خیال سراسر قلت تدبّر سے ناشی ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ جل شانہٗ جو کام صرف قدرت نمائی کے طور پر کرتا ہے وہ کام سراسر قدرتِ کاملہ کی ہی وجہ سے ہوتا ہے نہ قدرتِ ناقصہ کی وجہ سے یعنے جس ذات قادر مطلق کو یہ اختیار اور قدرت حاصل ہے کہ چاند کو دو ٹکڑہ کرسکے اس کو یہ بھی تو قدرت حاصل ہے کہ ایسے ُ پرحکمت طور سے یہ فعل ظہور میں لاوے کہ اس کے انتظام میں بھی کوئی خلل عائد نہ ہو اسی وجہ سے تو وہ سرب شکتی مان اور قادرِ مطلق