اس ؔ کو اپنے رنگ میں لے آتی ہے اسی طرح یہ بھی آتشِ محبتِ الٰہی کے ایک سخت استیلا سے کچھ کچھ اس طاقت عظمیٰ کے خواص ظاہر کرنے لگتا ہے جو اس پر محیط ہوگئی ہے سو یہ کچھ تعجب کی بات نہیں کہ عبودیت پر ربوبیت کا کامل اثر پڑنے سے اس سے ایسے خوارق ظاہر ہوں۔ بلکہ تعجب تو یہ ہے کہ ایسے اثر کے بعد بھی عبودیت کی معمولی حالت میں کچھ فرق پیدا نہ ہو کیونکہ اگر لوہا آگ میں تپانے سے کسی قدر خاصہ آگ کا ظاہر کرنے لگے تو یہ امر سراسر مطابق قانونِ قدرت ہے لیکن اگر سخت تپانے کے بعد بھی اسی پہلی حالت پر رہے اور کوئی خاصیت جدید اس میں پیدا نہ ہو تو یہ عندالعقل صریح باطل ہے سو فلاسفی تجارب بھی ان خوارق کے ضروری ہونے پر شہادت دے رہے ہیں۔ یہ افسانہ نہیں اس پر عارفانہ روح لے کر غور کرو۔ کیا بدنصیب وہ شخص ہے جو اس کو افسانہ سمجھے اور غور نہ کرے اس حالت خارقہ کو عارف کا دل جو مبدل ہے خوب شناخت کرتا ہے۔ دنیا اس حالت سے غافل ہے اور انکار کرتی ہے پر وہ جو اس مرتبہ تک پہنچا ہے وہ اس یقینی صداقت کے تصور سے سرور میں ہے۔ یہ تجلیات الٰہیہ کا ایک دقیق بھید ہے اور اعلیٰ درجہ کا راز معرفت ہے اور انسانی روح کے تعلقات جو درپردہ وہ اپنے ربّ کریم سے نہایت نازک اور لایدرک طور پر واقعہ ہیں وہ اسی نقطہ پر آکر کھلتے ہیں اور اسی نقطہ پر ایک طرفۃ العین کے لئے بندہ کے ہاتھ خدا کے ہاتھ اور اس کی آنکھیں خدا کی آنکھیں اور اس کی زبان خدا کی زبان کہلاتی ہے اور ربوبیت کی چادر ذرّہ عبودیت پر پڑ کر اس کو اپنے انوار میں متواری اور اپنی پرزور موجوں کے نیچے گم کردیتی ہے۔ فلسفیوں کی پرغرور روحیں اس انتہائی مرتبہ کے دریافت کرنے سے بے نصیب گئیں اور خدائے عزوجل نے دل کے غریب اور سادہ لوگوں کو یہ حالتیں دکھا دیں اور ان پر وارد کردیں۔وَ 3 3 اب خلاصہ کلام یہ کہ خدائے تعالیٰ کی ذات میں بہت سی عجائب رحمتیں اور بہت سی نادر وفاداریاں ہیں مگر کھلے کھلے طور پر انہیں پر ظاہر ہوتی ہیں کہ جو لوگ اسی کے ہوجاتے ہیں اور اسی کے ہورہتے ہیں اور اس ایک کے پانے کے لئے بہتوں کی جدائی اختیار کرتے ہیں خاک میں گرتے ہیں تا وہ پکڑلے