اِسؔ جگہ اس بات کا جواب دینا بھی مناسب ہے کہ اگر سب امور قوانین ازلیہ و ابدیہ میں داخل ہیں یعنے پہلے ہی سے بندھے ہوئے چلے آتے ہیں تو پھر معجزات کیا شے ہیں سو جاننا چاہئے کہ بے شک یہ تو سچ ہے کہ قوانین ازلیہ و ابدیہ سے یا یوں کہو کہ خدائے تعالیٰ کے ازلی ارادہ اور اس کے قضا وقدر سے کوئی چیز باہر نہیں گو ہم اس پر اطلاع پاویں یا نہ پاویں۔ جفّ القلم بما ھو کائن مگر اسی عادت الٰہیہ نے جو دوسرے لفظوں میں قانون قدرت سے موسوم ہوسکتی ہے بعض چیزوں کے ظہور کو بعض کے ساتھ مشروط کررکھا ہے پس جو امور ازلی ابدی ارادہ نے مقدسوں کی دعاؤں اور ان کی برکات انفاس اور ان کی توجہ اور ان کی عقد ہمت اور ان کے اقبال ایام سے وابستہ کررکھے ہیں اور ان کے تضرعات اور ابتہالات پر مترتب کی جاتی ہیں وہ امور جب انہیں شرائط اور انہیں وسائل سے ظہور میں آتے ہیں تب ان امور کو اس خاص حالت میں معجزہ یا کرامت یا نشان یا خارق عادت کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ اس جگہ خارق عادت کے لفظ سے اس شبہ میں نہیں پڑنا چاہئے کہ وہ کون سا امر ہے جو عادت الٰہیہ سے باہر ہے کیونکہ اس محل میں خارق عادت کے قول سے ایک مفہوم اضافی مراد ہے یعنے یوں تو عادات ازلیہ و ابدیہ خدائے کریم جل شانہٗ سے کوئی چیز باہر نہیں مگر اس کی عادات جو بنی آدم سے تعلق رکھتی ہیں دو طور کی ہیں ایک عادات عامہ جو روپوش اسباب ہوکر سب پر مؤثر ہوتی ہیں دوسری عادات خاصہ جو بتوسط اسباب اور بلاتوسطِ اسباب خاص ان لوگوں سے تعلق رکھتی ہیں جو اس کی محبت اور رضا میں کھوئی جاتی ہیں یعنے جب انسان بکلّی خدائے تعالیٰ کی طرف انقطاع کرکے اپنی عادات بشریہ کو استرضاءِ حق کے لئے تبدیل کردیتا ہے تو خدائے تعالیٰ اس کی اس حالت مبدلہ کے موافق اس کے ساتھ ایک خاص معاملہ کرتا ہے جو دوسروں سے نہیں کرتا یہ خاص معاملہ نسبتی طور پر گویا خارق عادت ہے جس کی حقیقت انہیں پر کھلتی ہے جو عنایت الٰہی سے اس طرف کھینچے جاتے ہیں۔ جب انسان اپنی بشری عادتوں کو جو اس میں اور اس کے ربّ میں حائل ہیں شوق توصل الٰہی میں توڑتا ہے تو خدائے تعالیٰ بھی اپنی عام عادتوں کو اس کے لئے توڑ دیتا ہے یہ توڑنا بھی عاداتِ