نصیحتؔ گوش کن جانان کہ ازجان دوست تردارند جوانان سعادت مند پند پیر دانا را میری رائے میں فلسفیوں سے بڑھ کر اور کسی قوم کی دلی حالت خراب نہ ہوگی۔ خدا میں اور بندہ میں وہ چیز جو بہت جلد جدائی ڈالتی ہے وہ شوخی اور خودبینی اور متکبری ہے سو وہ اس قوم کے اصول کو ایسی لازم پڑی ہوئی ہے کہ گویا انہیں کے حصہ میں آگئی ہے یہ لوگ خدائے تعالیٰ کی قدرتوں پر حاکمانہ قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور جس کے مونہہ سے اس کے برخلاف کچھ سنتے ہیں اس کو نہایت تحقیر اور تذلیل کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ نوخیزوں کے عام خیالات اسی طرف بڑھتے جاتے ہیں یہ کسی قوی دلیل کا اثر نہیں بلکہ ہمارے ملک کے لوگوں میں بھیڑ یا چال چلنے کا بہت سا مادہ موجود ہے جس سے تعلیم یافتہ جماعت بھی مستثنیٰ نہیں سو اس فطرت اور عادت کے جو لوگ ہیں وہ ایک بڑی ڈھاری والے کو گڑھے میں پڑا ہوا دیکھ کر فی الفور اس میں کود پڑتے ہیں اور اس سے بڑھ کر ان کے ہاتھ میں اور کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ یہ فلاں عقلمند کا قول ہے۔ غرض زہرناک ہوا کے چلنے سے کمزور لوگ بہت جلد ہلاک ہوتے ہیں لیکن ایک روشن دل آدمی جس کی فطرت میں خدائے تعالیٰ نے وسعت علمی کی استعداد رکھی ہوئی ہے وہ ایسے خیالات کو کہ خدائے تعالیٰ کے اسرار پر احاطہ کرنا کسی انسان کا کام ہے بغائت درجہ عقل و ایمان سے دور سمجھتا ہے۔ واقعی جتنا انسان عجائبات غیر متناہیہ حضرت باری جل شانہ ٗپر اطلاع پاتا ہے۔ اتنا ہی غرور اور گھمنڈ اس کا ٹوٹ جاتا ہے اور نئے طالب علموں کی شوخیاں اور بے راہیاں اس کے دل و دماغ سے جاتی رہتی ہیں اور مدت دراز تک ٹھوکریں کھانے کی وجہ سے ابتدائی حالت کے تہ و بالا ہوئے ہوئے خیالات کچھ کچھ روبراہ ہوتے جاتے ہیں جیسے ایک بڑے فلاسفر کا قول ہے کہ میں نے علم اور تجربہ میں ترقیات کیں یہاں تک کہ آخری علم اور تجربہ یہ تھا کہ مجھ میں کچھ علم اور تجربہ نہیں سچ ہے دریائے غیرمتناہی علم و قدرت باری جل شانہٗ کے آگے ذرّہ ناچیز انسان کی کیا حقیقت ہے کہ دم مارے۔ اور اس کا علم اور تجربہ کیا شے ہے تا اس پر نازل کرے سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاؕ ۱؂ کیا عمدہ اور صاف اور پاک اور خدائے تعالیٰ کی عظمت اور بزرگی کے موافق یہعقیدہ