میری طرف بناوٹ سے منسوب کر دیتا تو میں اُسے پکڑتا اور اُس کی رگِ جان قطع کر دیتا۔ گویا یہ تمام آیات رسالہ قطع الوتین سے ردّ ہوگئیں اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گویا یہ تمام وعید خداتعالیٰ کےؔ جو اُوپر کی تمام آیتوں میں مفتریوں کے متعلق ہیں یہ بالکل خلاف واقع باتیں تھیں اور یہ انبیاء علیہم السلام اگر نعوذ باللہ افترا کرنے والے ہوتے تب بھی بقول حافظ صاحب ہلاک نہ کئے جاتے تو گویا خدا کی گورنمنٹ میں مفتریوں کے لئے کوئی ا نتظام نہیں اور وہاں ہر ایک فریب چل جاتا ہے* اوریہ امکان باقی رہتا ہے کہ اگر خدا پر کوئی نبی افترا بھی کرتا تو دنیا کی زندگی میں اس کے لئے کوئی عذاب نہ تھا گویا خدا کے قانون سے انسانی گورنمنٹ کے قانون بڑھ کر ہیں کہ ان میں جھوٹی دستاویز بنانے والے دست بدست پکڑے جاتے اور سزا پاتے ہیں اس جگہ یہ مسئلہ بھی حل ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کی تکمیل تک جو تیئیس برس کی مدّت تھی مہلت ملنا اور مخالفانہ کوششوں سے جو ہلاک کرنے کے لئے تھیں محفوظ رہنا اور زندگی پوری کر کے خدا کے حکم کے ساتھ جانا جیسا کہ میرے لئے بھی اسّی ۸۰برس کی زندگی کی پیشگوئی ہے جب تک مَیں سب کچھ پورا کرلوں یہ باتیں حافظ صاحب کی نظر میں معجزہ کے رنگ میں نہیں ہیں اور نہ ایسی پیشگوئیوں کے پورا ہونے سے کوئی شخص صادق سمجھا جاتا ہے۔ غرض کیا مَیں اور کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حافظ صاحب کے مذہب کی رُو سے اس حفاظت اور عصمت الٰہی کو اپنی سچائی کی دلیل نہیں ٹھہرا سکتے بلکہ کاذب بھی اس میں شریک ہو سکتا ہے مگر اِس طرح پر تو قرآن شریف کا تمام بیان غلط ٹھہرتا ہے۔ کیونکہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک مفتری پکڑا جائے گا۔ ذلیل ہوگا۔ ہلاک ہوگا۔
جبکہ حافظ صاحب کے نزدیک جھوٹے پیغمبروں کی بھی اس قدر تائید ہو سکتی ہے کہ باوجود دشمنوں کی جان توڑ کوششوں کے وہ اُس وقت تک زندہ رہ سکتے ہیں کہ اپنے دین کو زمین پر جمادیں تو اس اصول سے سچّے نبی سب خاک میں مل گئے اور جھوٹ اور سچ میں سخت گڑ بڑ پڑ گیا اور ظاہر ہے کہ ہزاروں دشمنوں کے صدہا بدارادوں اور فریبوں اور کوششوں کے مخالف ایک مامور کو زندہ رکھنا اور دین کو زمین پر جما دینا یہ خدا تعالیٰ کا بڑا معجزہ ہے جو سچے اور کامل نبیوں کو دیا جاتا ہے۔ پس جبکہ اس معجزہ میں جھوٹے پیغمبر بھی شریک ہیں تو اِس صورت میں معجزہ بھی قابل اعتبار نہ رہا اور سچے نبی کی سچائی پر کوئی علامت قاطعہ باقی نہ رہی واہ! حافظ صاحب آپ نے اسلام کا ہی خاتمہ کیا۔ حافظ ہوں تو ایسے ہوں۔ منہ