اور فلاح نہیں پائے گا اور انسانی عقل بھی یہی قبول کرتی ہے کہ کذاب جو خدا کے سلسلہ کو عمداً تباہ کرنا چاہتا ہے ہلاک ہونا چاہئے۔ یہی بیان جابجا خدا کی پہلی کتابوں میں بھی ہے مگر حافظ صاحب کا مقولہ ہے کہ بہتوں نے جھوٹی وحی اور جھوٹی نبوت کے دعوے کئے اور ان دعووں کا سلسلہ تیس تیس برس تک جاری رکھا اور اپنی نبوتوں پر اصراری رہے اور اپنا سلسلہ جھوٹی وحی پیش کرنے کا اخیر دم تک نہ چھوڑا یہاں تک کہ اسی کفر پر مرگئے اور خدا نے اُن کی عمر اور کام میں برکت دی اور کوئی عذاب نہ کیا اور نہ ثابت ہو سکا کہ کبھی اُنہوں نے توبہ کی اور کبھی اُن کی توبہ ملک میں شائع ہو کر لوگوں کو اُن کے دوبارہ مسلمان ہونے کی خبر ہوئی اور حافظ صاحب فرماتے ہیں کہ ان باتوں کا ثبوت رسالہ قطع الوتین میں بخوبی لکھا گیا ہے اور حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ مَیں انعام کا پا3نسو روپیہ لینا نہیں چاہتا اس کے عوض یہ چاہتا ہوں کہ ندوۃ العلماء کے سالانہ جلسہ میں جوابتداء ۹؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء سے بمقام امرتسرمنعقدہوگا جس میں ہندوستان کے مشاہیر علماء شریک ہوں گے مرزا صاحب یعنی یہ عاجز یہ اقرار لکھ دیں کہ جو نظائر پیش کیؔ گئی ہیں (یعنی رسالہ قطع الوتین میں) اگر مقرر کردہ حَکم کے نزدیک یعنی ندوہ کے علماء کے نزدیک محک امتحان پر پوری اُتریں یعنی ندوہ نے قبول کر لیا ہو کہ جس عمر کو ابتدا وحی سے مَیں نے پایا ہے اور جس انکشاف سے اور پورے زور اور یقین سے خدا کی وحی پر میرا دعویٰ ہے اور مَیں نے جس طرح ہزارہا کلمات خدا تعالیٰ کی وحی کے اپنی نسبت لکھے ہیں اور دنیا میں مشہور کئے ہیں ایسا ہی ان لوگوں نے مشہور کئے تھے اور خدا پر افترا کیا تھا پھر وہ ہلاک نہ ہوئے بلکہ میرے جیسی اُن کی بھی جماعت ہوگئی تو ایسی صورت میں مجھے اس مجلس میں توبہ کرنی چاہئے، مَیں قبول کرتا ہوں کہ ندوہ کے علماء اگر ان کو خدا نے بصیرت دی ہے اور تقویٰ اور انصاف بھی ہے اور پورے غور کرنے کے لئے وقت بھی ہے تو ضرور وہ میرے بیان اور حافظ صاحب کی قطع الوتین کو دیکھ کر سچا فتویٰ دے سکتے ہیں۔ مگر مَیں ندوہ کے پاس امرتسر میں آنہیں سکتا کیونکہ میرا ان لوگوں پر حسن ظن نہیں ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ مَیں نہ تو ان لوگوں کو متّقی سمجھتا ہوں (آئندہ اگر خدا کسی کو متقی کردے تو اُس کا فضل ہے) اور نہ عارف حقائقِ قرآن