بہر دمم مددے از خدا ہمی آید
کجاست اہل بصیرت کہ چشم بکشاید
آج ۲؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو ایک اشتہار مجھے ملا جو حافظ محمد یوسف پنشنر کی طرف سے میرے نام پر شائع ہوا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ مَیں ایک دفعہ زبانی اِس بات کا اقرار کر چکا ہوں کہ جن لوگوں نے نبی یا رسول یا اورکوئی مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا تو وہ لوگ ایسے افترا کے ساتھ جس سے لوگوں کو گمراہ کرنا مقصود تھا تئیس۲۳ برس تک (جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایاّم بعثت کا کامل زمانہ ہے) زندہ رہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور پھر حافظ صاحب اسی اشتہار میں لکھتے ہیں کہ ان کے اس قول کی تائید میں ان کے ایک دوست ابو اسحاق محمد دین نام نے قطع الوتین نام ایک رسالہ بھی لکھا تھا جس میں مدعیان کاذب کے نام معہ مدّتِ دعویٰ تاریخی کتابوں کے حوالہ سے درج ہیں۔ ماحصل اِس تمام تقریر کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ حافظ صاحب کو قرآن شریف کی آیت لو تقوّل پر ایمان نہیں ہے اور نہ لانا چاہتے ہیں اور نہ آیت 33 ۱ پر اُن کا عقیدہ ہے اور نہ ایسا عقیدہ رکھنا چاہتے ہیں بلکہ رسالہ قطع الوتین قرآن شریف کی ان آیتوں کو ردّ کر چکا ہے اور ان کے نزدیک گویایہ تمام آیتیں جیسا کہ 3۲ ا ور جیسا کہ آیت3333 ۔۳ اور جیسا کہ آیت 33َ333۴ یہ سب منسوخ شدہ ہیں جواب واجب العمل نہیں اور پھر اُن آیتوں میں سے وہ بھی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر یہ نبی بعض باتیں