نظم میر ناصر نواب صاحب دہلوی
کشتیء نوح و دعوت الایمان
ہے عجب اِک کتاب عالی شان
تازہ ہوتا ہے اس کو پڑھ کر دیں
اس سے بڑھتی ہے رونق ایمان
ہے یہ آبِ حیات سے بہتر
مُردہ روحوں کو بخشتی ہے جان
اس کی تعریف سے ہوں مَیں عاجز
وصف سے اس کے لال میری زبان
گُمرہوں کی ہے رہنما یہ کتاب
ہے ہدایت کا ان کے یہ سامان
بیکسوں کی ہے تکیہ گاہ یہی
لاعلاجوں کا اس میں ہے درمان
ہیں مضامین اس کے لاثانی
ہے خدا کے رسول کا یہ نشان
اس سے کھلتے ہیں دین کے عقدے
غور سے گر اسے پڑھے انسان
علم آتا ہے جہل جاتا ہے
دور ہوتے ہیں اس سے وہم و گمان
باغ دنیا نہیں یہ جنت ہے
جس میں پھرتے ہیں حور اور غلمان
اس میں ہیں شِیر و شہد کی نہریں
جا بجا اس میں قصر عالی شان
کشتیء بے نظیر ہے یہ مفت
کوئی اُجرت کا یاں نہیں خواہان
جس نے ہم کو عطا یہ کشتی کی
ایسے ملّاح پر ہیں ہم قربان
یا الٰہی تو ہم کو دے توفیق
کیونکہ تو ہے رحیم اور رحمان
دور ہوں ہم سے نفس کے جذبات
ہم سے بھاگے پرے پرے شیطان
تیرے حکموں پہ ہم چلیں دن رات
دل سے ہم مان لیں ترے فرمان
ہم سے تو خوش ہو تجھ سے ہم راضی
جسم سے جب ہمارے نکلے جان
تیرا بندہ ہے ناصرؔ عاجز
چاہتا ہے یہ تجھ سے تیری امان
تیری رحمت کا تجھ سے خواہاں ہے
فضل کا تیرے تجھ سے ہے جویان
دور کر اس کے بوجھ اے مولیٰ
راستہ اپنا اس پہ کر آسان
اتقیا میں اسے بھی شامل کر
رحم کر رحم اس پہ اے سُبحان
ڈھانک دے اسکے عیب اے ستّار
کہ یہ رکھتا ہے تجھ پہ نیک گمان
بطفیل محمد و احمد
درد کا اِس کے جلد کر درمان
دِل سے اپنے یہ ہے غلامِ امام
کرمدد اِس کی ظاہر و پنہان