بے گناہ مسیح کو یہودیوں کے حوالہ کر دیا میری طرح کوئی خون کا الزام نہ تھا صرف معمولی طور پر مذہبی اختلاف تھا لیکن وہ رومی پیلاطوس دل کا قوی نہ تھا اس بات کو سن کر ڈر گیا کہ قیصر کے پاس اُس کی شکایت کی جائے گی۔ اور پھر ایک اور مماثلت پہلے پیلاطوس اور اس پیلاطوس میں یاد رکھنے کے لائق ہے کہ پہلے پیلاطوس نے اس وقت جو مسیح ابن مریم عدالت میں پیش کیا گیا یہودیوں کو کہا تھا کہ میں اس شخص میں کوئی گناہ نہیں دیکھتا ایسا ہی جب آخری مسیح اس آخری پیلاطوس کے روبرو پیش ہوا اور اس مسیح نے کہا کہ مجھے چند روز تک جواب کے لئے مہلت دینی چاہئے کہ مجھ پر خون کا الزام لگایا جاتا ہے تب اس آخری پیلاطوس نے کہا کہ میں آپ پر کوئی الزام نہیں لگاتا یہ دونوں قول دونوں پیلاطوسوں کے بالکل باہم مشابہ ہیں اگر فرق ہے تو صرف اس قدر ہے کہ پہلا پیلاطوس اپنے اس قول پر قائم نہ رہ سکا اور جب اس کو کہا گیا کہ قیصر کے پاس تیری شکایت کریں گے تو وہ ڈر گیا اور حضرت مسیح کو اس نے عمداً خونخوار یہودیوں کے حوالہ کر دیا گو وہ اس سپردگی سے غمگین تھا اور اس کی عورت بھی غمگین تھی۔ کیونکہ وہ دونوں مسیح کے سخت معتقد تھے لیکن یہودیوں کا سخت شوروغوغا دیکھ کر بزدلی اُس پر غالب آگئی ہاں البتہ پوشیدہ طور پر اس نے بہت سعی کی کہ مسیح کی جان کو صلیب سے بچایا جاوے اور اس سعی میں وہ کامیاب بھی ہو گیا مگر بعد اس کے کہ مسیح صلیب پر چڑھایا گیا اور شدت درد سے ایک ایسی سخت غشی میں آ گیا کہ گویا وہ موت ہی تھی۔ بہرحال پیلاطوس رومی کی کوشش سے مسیح ابن مریم کی جان بچ گئی اور جان بچنے کے لئے پہلے سے مسیح کی دعا منظور ہو چکی تھی۔ دیکھو عبرانیاں باب۵ آیت۷*۔ بعد اس کے مسیح اُس زمین سے پوشیدہ طور پر بھاگ کر کشمیر کی طرف آگیا اور وہیں مسیح نے بطور پیشگوئی خود بھی کہا کہ بجز یونس کے نشان کے اور کوئی نشان دکھایا نہیں جائے گا پس مسیح نے اپنے اس قول میں یہ اشارہ کیا کہ جس طرح یونس زندہ ہی مچھلی کے پیٹ میں داخل ہوا اور زندہ ہی نکلا ایسا ہی میں بھی زندہ ہی قبر میں داخل ہوں گا اور زندہ ہی نکلوں گا سو یہ نشان بجز اس کے کیونکر پورا ہو سکتا تھا کہ مسیح زندہ صلیب سے اُتارا جاتا اور زندہ قبر میں داخل ہوتا اور یہ جو حضرت مسیح نے کہا کہ کوئی اور نشان نہیں دکھایا جائے گا اس فقرہ میں گویا مسیح ان لوگوں کا رد کرتا ہے کہ جو کہتے ہیں کہ مسیح نے یہ نشان بھی دکھلایا کہ آسمان پر چڑھ گیا۔ منہ