فوت ہوا اور تم سن چکے ہو کہ سری نگر محلہ خان یار میںؔ اُس کی قبر ہے یہ سب پیلاطوس کی سعی کا نتیجہ تھا لیکن تا ہم اُس پہلے پیلاطوس کی کارروائی بزدلی کی رنگ آمیزی سے خالی نہ تھی اگر وہ اپنے اس قول کا پاس کر کے کہ میں اس شخص کا کوئی گناہ نہیں دیکھتا مسیح کو چھوڑ دیتا تو اس پر کچھ مشکل نہ تھا اور وہ چھوڑنے پر قادر تھا مگر وہ قیصر کی دوہائی سن کر ڈر گیا۔ لیکن یہ آخری پیلاطوس پادریوں کے ہجوم سے نہ ڈرا حالانکہ اس جگہ بھی قیصرہ کی بادشاہی تھی لیکن یہ قیصرہ اُس قیصر سے بدرجہ ہا بہتر تھی اس لئے کسی کے لئے ممکن نہ تھا کہ حاکم پر دباؤ ڈالنے کے لئے اور انصاف چھڑانے کے لئے قیصرہ سے ڈراوے بہرحال پہلے مسیح کی نسبت آخری مسیح پر بہت شور اور منصوبہ اُٹھایا گیا تھا اور میرے مخالف اور ساری قوموں کے سرگروہ جمع ہوگئے تھے مگر آخری پیلاطوس نے سچائی سے پیار کیا اور اپنے اس قول کو پورا کرکے دکھلایا کہ جو اس نے مجھے مخاطب کر کے کہا تھا کہ میں تم پر خون کا الزام نہیں لگاتا سو اس نے مجھے بہت صفائی اور مردانگی سے بَری کیا اور پہلے پیلاطوس نے مسیح کو بچانے کے لئے حیلوں سے کام لیا مگر اس پیلاطوس نے جو کچھ عدالت کا تقاضا تھا اُس طور سے اس تقاضا کو پورا کیا جس میں بزدلی کا رنگ نہ تھا۔ جس دن میں بَری ہوا اُس دن اس عدالت میں مکتی فوج کا ایک چور بھی پیش ہوا یہ اس لئے وقوع میں آیا کہ پہلے مسیح کے ساتھ بھی ایک چور تھا لیکن اس آخری مسیح کے ساتھ کے چور کو جو پکڑا گیا اُس پہلے چور کی طرح جو پہلے مسیح کے ساتھ پکڑا گیا صلیب پر نہیں چڑھایا اور نہ اس کی ہڈیاں توڑی گئیں بلکہ صرف تین ماہ کی قید ہوئی۔ اب پھر ہم اپنے بیان کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ سورۃ فاتحہ میں اِس قدر حقائق و دقایق و معارف جمع ہیں کہ اگر اُن سب کو لکھا جائے تو وہ باتیں ایک دفتر میں بھی ختم نہیں ہو سکتیں اسی ایک حکیمانہ دعا کو دیکھئے کہ جو اس سورہ میں سکھائی گئی ہے یعنی اِھْدِ نَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ یہ دعا ایک ایسا مفہوم کلّی اپنے اندر رکھتی ہے جو تمام دین