بُزدلی نے مسیح کو بڑی بڑی تکالیف کا نشانہ بنایا یہ فرق ہماری جماعت میں ہمیشہ تذکرہ کے لائق ہے جب تک کہ دنیا قائم ہے اور جیسے جیسے یہ جماعت لاکھوں کروڑوں افراد تک پہنچے گی ویسی ویسی تعریف کے ساتھ اس نیک نیّت حاکم کا تذکرہ رہے گا اور یہ اس کی خوش قسمتی ہے کہ خدا نے اس کام کے لئے اُسی کو چنا۔ ایک حاکم کے لئے کس قدر یہ امتحان کا موقعہ ہے کہ دو فریق اس کے پاس آویں کہ ایک ان میں سے اس کے مذہب کا مشنری ہے اور دوسرا فریق وہ ہے جو اس کے مذہب کا مخالف ہے اور اُس کے پاس بیان کیا گیا ہے کہ وہ اُس کے مذہب کا سخت مخالف ہے لیکن اس بہادر پیلاطوس نے اس امتحان کو بڑے استقلال سے برداشت کر لیا اور اس کو ان کتابوں کے مقام دکھلائے گئے جن میں کم فہمی سے عیسائی مذہب کی نسبت سخت الفاظ سمجھے گئے تھے اور ایک مخالفانہ تحریک کی گئی تھی مگر اس کے چہرہ پر کچھ تغیر پیدا نہ ہوا کیونکہ وہ اپنی روشن کانشنس کی وجہ سے حقیقت تک پہنچ گیا تھا اور چونکہ اُس نے مقدمہ کی اصلیت کو سچے دل سے تلاش کیا اس لئے خدا نے اس کی مدد کی اور اُس کے دل پر سچائی کا الہام کیا اور اس پر واقعی حقیقت کھولی گئی اور وہ اس سے بہت خوش ہوا کہ عدل کی راہ اُس کو نظر آگئی اُس نے مجھے محض عدل کے لحاظ سے مدعی کے مقابل پر کرسی دی اور جب مولوی محمد حسین جو سردار کاہن کی طرح مخالفانہ گواہی کے لئے آیا تھا مجھے کرسی پر بیٹھا ہوا پایا اور جس ذلت کو دیکھنے کے لئے میری نسبت اُس کی آنکھ شوق رکھتی تھی اُس ذلت کو اُس نے نہ دیکھا تب مساوات کو غنیمت سمجھ کر وہ بھی اُس پیلاطوس سے کرسی کا خواہشمند ہوا مگر اُس پیلاطوس نے اُسے ڈانٹا اور زور سے کہا کہ تجھے اور تیرے باپ کو کبھی کرسی نہیں ملی ہمارے دفتر میں تمہاری کرسی کے لئے کوئی ہدایت نہیں۔ اب یہ فرق بھی غور کے لائق ہے کہ پہلے پیلاطوس نےؔ یہودیوں سے ڈر کر ان کے بعض معزز گواہوں کو کرسی دے دی اور حضرت مسیح کو جو مجرم کے طور پر پیش کئے گئے تھے کھڑا رکھا حالانکہ وہ سچے دل سے مسیح کا خیر خواہ تھا بلکہ مریدوں کی طرح تھا اور اس کی بیوی مسیح کی خاص مرید تھی جو ولی اللہ کہلاتی ہے لیکن خوف نے اس سے یہاں تک حرکت صادر کرائی کہ ناحق