مماثلت کا حصہ لیا ہے مگر اس اُمت کا مسیح موعود کھلے کھلے طور پر خدا کے حکم اور اِذن سے اسرائیلی مسیح کے مقابل کھڑا کیا گیا ہے تا موسوی اور محمدی سلسلہ کی مماثلت سمجھ آ جائے اسی غرض سے اس مسیح کو ابن مریم سے ہریک پہلو سے تشبیہ دی گئی ہے یہاں تک کہ اِس ابن مریم پر ابتلا بھی اسرائیلی ابن مریم کی طرح آئے اوّل جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم محض خدا کے نفخ سے پیدا کیا گیا اِسی طرح یہ مسیح بھی سورۃ تحریم کے وعدہ کے موافق محض خدا کے نفخ سے مریم کے اندر سے پیدا کیا گیا اور جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم کی پیدائش پر بہت شور اُٹھا اور اندھے مخالفوں نے مریم کو کہا 3 3 ۱ اسی طرح اِس جگہ بھی کہا گیا اور شور قیامت مچایا گیا اور جیسا کہ خدا نے اسرائیلی مریم کے وضع حمل کے وقت مخالفوں کو عیسیٰ کی نسبت یہ جواب دیا 333 ۲ یہی جواب خدا تعالیٰ نے میری نسبت براہین احمدیہ میں روحانی وضع حمل کے وقت جو استعارہ کے رنگ میں تھا مخالفوں کو دیا اور کہا کہ تم اپنے فریبوں سے اس کو نابود نہیں کر سکتے مَیں اس کو لوگوں کے لئے رحمت کا نشان بناؤں گا اور ایسا ہونا ابتدا سے مقدر تھا۔ اور پھر جس طرح یہودیوں کے علماء نے حضرت عیسیٰ پر فتویٰ تکفیر کا لگایا اور ایک شریر فاضل یہودی نے وہ استفتاء طیار کیا اور دوسرے فاضلوں نے اس پر فتویٰ دیاؔ یہاں تک کہ بیت المقدس کے صدہا عالم فاضل جو اکثر اہلحدیث تھے۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ پر تکفیر کی مہریں لگا دیں یہی*معاملہ مجھ سے ہوا اور پھر جیسا کہ اُس تکفیر کے بعد جو حضرت عیسیٰ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں یہودی اگرچہ بہت فرقے تھے مگر جو حق پر سمجھے جاتے تھے وہ دو فرقے ہوگئے تھے (۱) ایک وہ جو توریت کے پابند تھے اُسی سے اجتہاد کے طور پر مسائل استنباط کرتے تھے (۲) دوسرا فرقہ اہلحدیث تھا جو توریت پر احادیث کو قاضی سمجھتے تھے یہ اہل حدیث اسرائیلی بلاد میں بہت پھیل گئے تھے اور ایسی ایسی حدیثوں پر عمل کرتے تھے جو اکثر توریت کی معارض اور نقیض تھیں اور ان کی یہ حجت تھی کہ بعض مسائل شرع مثلاً عبادات اور معاملات اور قانون مجازات کے مسائل توریت سے ملتے نہیں ہیں ان پر حدیثوں کی رو سے اطلاع