کی نسبت کی گئی تھی اُن کو بہت ستایا گیا سخت سخت گالیاں دی گئیں تھیں ہجو اور بدگوئی میں کتابیں لکھی گئی تھیں یہی صورت اس جگہ پیش آئی گویا اٹھارہ ۱۸۰۰ سو برس کے بعد وہی عیسیٰ پھر پیدا ہو گیا اور وہی یہودی پھر پیدا ہوگئے۔ آہ یہی معنی تو اس پیشگوئی کے تھے کہ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ جو خدا نے پہلے سے سمجھا دیا تھا مگر ان لوگوں نے صبر نہ کیا جب تک یہودیوں کی طرح مغضوب علیہم نہ بن گئے اِس مماثلت کی ایک اینٹ تو خدا نے اپنے ہاتھ سے لگا دی کہ مجھے عین چودہویں صدی کے سر پر جیسا کہ مسیح ابن مریم چودہویں صدی کے سر پر آیا تھا مسیح الاسلامکر کے بھیجا اور میرے لئے اپنے زبردست نشان دکھلا رہا ہے اور آسمان کے نیچے کسی مخالف مسلمان یا یہودی یا عیسائی وغیرہ کو طاقت نہیںؔ کہ اُن کا مقابلہ کرے اور خدا کا مقابلہ عاجز اور ذلیل انسان کیا کر سکے یہ تو وہ بنیادی اینٹ ہے جو خدا کی طرف سے ہے ہر ایک جو اس اینٹ کو توڑنا چاہے گا وہ توڑ نہیں سکے گا مگر یہ اینٹ جب اُس پر پڑے گی تو اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گی کیونکہ اینٹ خدا کی اور ہاتھ خدا کا ہے اور دوسری اینٹ میرے مخالفوں نے طیار کر کے اس کے مقابل پر رکھ دی کہ میرے مقابل پر وہ کام کئے جو اس وقت کے یہودیوں نے کئے تھے یہاں تک کہ میرے ہلاک کرنے کے لئے ہوتی ہے اور حدیث کی کتاب کا نام طالمود تھا اور اس میں ہر ایک نبی کے زمانہ کی حدیثیں تھیں یہ حدیثیں مدت تک زبانی رہیں اور مدت کے بعد قلمبند ہوئیں اِس لئے ان میں کچھ موضوعات کا حصہ بھی مل گیا تھا اور بباعث اس کے کہ اس وقت یہودیوں کے تہتر۷۳ فرقے ہوگئے تھے اور ہر ایک فرقہ اپنی اپنی حدیثیں جدا جدا رکھتا تھا اور محدثین نے توریت کی طرف توجہ چھوڑ دی تھی اکثر حدیثوں پر عمل تھا اور توریت گویا متروک اور مہجور کی طرح تھی اگر حدیث کے مطابق آئی تو اُس کو مانا ورنہ اس کو ردّ کیا۔ پس اس زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے اور اُن کے مخاطب خاص طور پر اہل حدیث ہی تھے جو توریت سے زیادہ حدیثوں کی عزت کرتے تھے اور نبیوں کے نوشتوں میں پہلے خبر دی گئی تھی کہ جب یہود کئی فرقوں پر منقسم ہو جائیں گے اور خدا کی کتاب کو چھوڑ کر اس کے برخلاف حدیثوں پر عمل کریں گے تب ان کو ایک حَکم عدل دیا جائے گا جو مسیح کہلائے گا اور اُس کو وہ قبول نہ کریں گے آخر سخت عذاب اُن پر نازل ہوگا اور وہ طاعون(کا) عذاب تھا نعوذ باللّٰہ۔ منہ