مگر خدا ان تہمتوں سے اپنے بندہ کو بَری کرے گا اور ہم اس کو لوگوں کے لئے ایک نشان بنا دیں گے اور یہ بات ابتدا سے مقدر تھی اور ایسا ہی ہونا تھا یہ عیسیٰ بن مریم ہے جس میں لوگ شک کر رہے ہیں یہی قول حق ہے۔ یہ سب براہین احمدیہ کی عبارت ہے اور یہ الہام اصل میں آیات قرآنی ہیں جو حضرت عیسیٰ اور ان کی ماں کے متعلق ہیں۔ ان آیتوں میں جس عیسیٰ کو لوگوں نے ناجائز پیدائش کا انسان قرار دیا ہے اُسی کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اس کو اپنا نشان بنائیں گے اور یہی عیسیٰ ہے جس کی انتظار تھی اور الہامی عبارتوں میں مریم اور عیسیٰ سے میں ہی مراد ہوں۔ میری نسبت ہی کہا گیا کہ ہم اس کو نشان بنا دیں گے اور نیز کہا گیا کہ یہ وہی عیسیٰ بن مریم ہے جو آنے والا تھا جس میں لوگ شک کرتے ہیں یہی حق ہے اور آنے والا یہی ہے اور شک محض نافہمی سے ہے جو خدا کے اسرار کو نہیں سمجھتے اور صورت پرست ہیں حقیقت پر ان کی نظر نہیں۔
یہؔ بھی یاد رہے کہ سورۃ فاتحہ کے عظیم الشان مقاصد میں سے یہ دعا ہے کہ اِھْدِناَالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ۔ اور جس طرح انجیل کی دعا میں روٹی مانگی گئی ہے اس دعا میں خدا تعالیٰ سے وہ تمام نعمتیں مانگی گئی ہیں جو پہلے رسولوں اور نبیوں کو دی گئی تھیں یہ مقابلہ بھی قابل نظارہ ہے اور جس طرح حضرت مسیح کی دعا قبول ہو کر عیسائیوں کو روٹی کا سامان بہت کچھ مل گیا ہے اِسی طرح یہ قرآنی دعا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے قبول ہو کر اخیار و ابرار مسلمان بالخصوص ان کے کامل فرد انبیاء بنی اسرائیل کے وارث ٹھہرائے گئے اور دراصل مسیح موعود کا اس اُمت میں سے پیدا ہونا یہ بھی اسی دعا کی قبولیت کا نتیجہ ہے کیونکہ گو مخفی طور پر بہت سے اخیار و ابرار نے انبیاء بنی اسرائیل کی
محبت رکھتے تھے اور بہت تعلق تھا جب میرے دعویٰ مسیح موعود ہونے کی کسی نے ان کو خبر دی تو وہ بہت روئے اور کہا کہ ان کے والد صاحب بہت اچھے آدمی تھے یعنی یہ شخص کس پر پیدا ہوا ان کا باپ تو نیک مزاج اور افترا کے کاموں سے دور اور سیدھا اور صاف دل مسلمان تھا ایسا ہی بہتوں نے کہا کہ تم نے اپنے خاندان کو داغ لگایا کہ ایسا دعویٰ کیا۔ منہ