تقاضا تھا کہ براہین احمدیہ کے بعض الہامی اسرار میری سمجھ میں نہ آتے مگر جب وقت آ گیا تو وہ اسرار مجھے سمجھائے گئے تب میں نے معلوم کیا کہ میرے اس دعویٰ مسیح موعود ہونے میں کوئی نئی بات نہیں یہ وہی دعویٰ ہے جو براہین احمدیہ میں بار بار بتصریح لکھا گیا ہے۔ اس جگہ ایک اور الہام کا بھی ذکر کرتا ہوں اور مجھے یاد نہیں کہ میں نے وہ الہام اپنے کسی رسالہ یا اشتہار میں شائع کیا ہے یا نہیں لیکن یہ یاد ہے کہ صدہالوگوں کو میں نے سنایا تھا اور میری یادداشت کے الہامات میں موجود ہے اور وہ اُس زمانہ کاہے جب کہ خدا نے مجھے پہلے مریم کا خطاب دیا اور پھر نفخ روح کا الہام کیا۔ پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا تھا فاجاء ھا المخاض الی جذع النخلۃ قالت یالیتنی مت قبل ھذا وکنت نسیا منسیا یعنی پھر مریم کو جو مراد اِس عاجز سے ہے دردِزِہ تنہ کھجور کی طرف لے آئی یعنی عوام الناس اور جاہلوں اور بے سمجھ علماء سے واسطہ پڑا جن کے پاس ایمان کا پھل نہ تھا جنہوں نے تکفیر و توہین کی اور گالیاں دیں اور ایک طوفان برپا کیا تب مریم نے کہا کہ کاش میں اس سے پہلے مر جاتی اور میرا نام و نشان باقی نہ رہتا یہ اس شور کی طرف اشارہ ہے جو ابتدا میں مولویوں کی طرف سے بہ ہیئت مجموعی پڑا اور وہ اس دعویٰ کی برداشت نہ کر سکے اور مجھے ہر ایک حیلہ سے انہوں نے فنا کرنا چاہا تبؔ اُس وقت جو کرب اور قلق ناسمجھوں کا شوروغوغا دیکھ کر میرے دل پر گذرا اُس کا اس جگہ خداتعالیٰ نے نقشہ کھینچ دیا ہے اور اس کے متعلق اور بھی الہام تھے جیسا لقد جئت شیئا فریا۔ ماکان ابوک امرء سوء وما کانت أمّک بغیااور پھر اس کے ساتھ کا الہام براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۲۱ میں موجود ہے اور وہ یہ ہے۔ الیس اللّٰہ بکاف عبدہ ولنجعلہ ایۃ للناس ورحمۃ منا وکان امرا مقضیا۔ قول الحق الذی فیہ تمترون دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۱۶ سطر ۱۲ و ۱۳۔( ترجمہ) اور لوگوں نے کہا کہ اے مریم تو نے یہ کیا مکروہ اور قابلِ نفرین کام دکھلایا جو راستی سے دور ہے تیرا باپ *اور تیری ماں تو ایسے نہ تھے نوٹ: اس الہام پر مجھے یاد آیا کہ بٹالہ میں فضل شاہ یا مہر شاہ نام ایک سید تھے جو میرے والد صاحب سے بہت