کیا جائے کہ تمہیں کیوں ابن مریم کہا جائے اور کیا آج سے بیس ۲۰بائیس۲۲ برس پہلے بلکہ اس سے بھی زیادہ میری طرف سے یہ منصوبہ ہو سکتا تھا کہ میں اپنی طرف سے الہام تراش کر اول اپنا نام مریم رکھتا اور پھر آگے چل کر افترا کے طور پر یہ الہام بناتا کہ پہلے زمانہ کی مریم کی طرح مجھ میں بھی عیسیٰ کی روح پھونکی گئی اور پھر آخر کار صفحہ ۵۵۶ براہین احمدیہ میں یہ لکھ دیتا کہ اب میں مریم میں سے عیسیٰ بن گیا۔ اے عزیزو! غور کرو اور خدا سے ڈرو ہرگز یہ انسان کا فعل نہیں یہ باریک اور دقیق حکمتیں انسان کے فہم اور قیاس سے بالا تر ہیں اگر براہین احمدیہ کی تالیف کے وقت جس پر ایک زمانہ گذر گیا مجھے اس منصوبہ کا خیال ہوتا تو میں اُسی براہین احمدیہ میں یہ کیوں لکھتا کہ عیسیٰ مسیح ابن مریم آسمان سے دوبارہ آئے گا سوچونکہ خدا جانتا تھا کہ اس نکتہ پر علم ہونے سے یہ دلیل ضعیف ہو جائے گی اس لئے گو اُس نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو۲ برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا پھر جب اُس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین ا حمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ ۴۹۶ میں درج ہے مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ ؔ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ ۵۵۶میں درج ہے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔ اور خدا نے براہین احمدیہ کے وقت میں اس سر خفی کی مجھے خبر نہ دی حالانکہ وہ سب خداکی وحی جو اس راز پر مشتمل تھی میرے پر نازل ہوئی اور براہین میں درج ہوئی مگر مجھے اُس کے معنوں اور اس ترتیب پر اطلاع نہ دی گئی اسی واسطے میں نے مسلمانوں کا رسمی عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا تا میری سادگی اور عدم بناوٹ پر وہ گواہ ہو وہ۔۔۔۔ لکھنا جو الہامی نہ تھا محض رسمی تھا مخالفوں کے لئے قابل استناد نہیں کیونکہ مجھے خود بخود غیب کا دعویٰ نہیں جب تک کہ خود خدا تعالیٰ مجھے نہ سمجھاوے۔ سو اس وقت تک حکمتِ الٰہی کا یہی