نہ بے محل اور بے موقع اور ساتھ اس کے یہ بھی یادرکھو کہ حقیقی اخلاق فاضلہ جن کے ساتھ نفسانی اغراض کی کوئی زہریلی آمیزش نہیں وہ اوپر سے بذریعہ روح القدس آتے ہیں سو تم ان اخلاق فاضلہ کو محض اپنی کوششوں سے حاصل نہیں کر سکتے جب تک تم کو اوپر سے وہ اخلاق عنایت نہ کئے جائیں اور ہر ایک جو آسمانی فیض سے بذریعہ روح القدس اخلاق کا حصہ نہیں پاتا وہ اخلاق کے دعویٰ میں جھوٹا ہے اور اس کے پانی کے نیچے بہت سا کیچڑ ہے اور بہت سا گوبر ہے جو نفسانی جوشوں کے وقت ظاہر ہوتا ہے سو تم خدا سے ہر وقت قوت مانگو جو اُس کیچڑ اور اُس گوبر سے تم نجات پاؤ اور روح القدس تم میں سچی طہارت اور لطافت پیدا کرے یاد رکھو کہ سچے اور پاک اخلاق را ستبازوں کا معجزہ ہے جن میں کوئی غیر شریک نہیں کیونکہ وہ جو خدا میںؔ محو نہیں ہوتے وہ اوپر سے قوت نہیں پاتے اس لئے اُن کے لئے ممکن نہیں کہ وہ پاک اخلاق حاصل کر سکیں سو تم اپنے خدا سے صاف ربط پیدا کرو ۔ٹھٹھا،ہنسی، کینہ وری، گندہ زبانی، لالچ، جھوٹ، بد کاری، بد نظری، بد خیالی، دنیا پرستی، تکبر، غرور، خود پسندی، شرارت، کج بحثی، سب چھوڑ دو۔ پھر یہ سب کچھ تمہیں آسمان سے ملے گا۔ جب تک وہ طاقت بالا جو تمہیں اوپر کی طرف کھینچ کر لے جائے تمہارے شامل حال نہ ہو اور روح القدس جو زندگی بخشتا ہے تم میں داخل نہ ہو تب تک تم بہت ہی کمزور اور تاریکی میں پڑے ہوئے ہو بلکہ ایک مُردہ ہو جس میں جان نہیں اس حالت میں نہ تو تم کسی مصیبت کا مقابلہ کر سکتے ہو نہ اقبال اور دولت مندی کی حالت میں کبر اور غرور سے بچ سکتے ہو اور ہر ایک پہلو سے تم شیطان اور نفس کے مغلوب ہو سو تمہارا علاج تو درحقیقت ایک ہی ہے کہ روح القدس جو خاص خدا کے ہاتھ سے اُترتی ہے تمہارا منہ نیکی اور را ستبازی کی طرف پھیر دے تم ابناء السّماء بنو نہ ابناء الارض اور روشنی کے وارث بنو نہ تاریکی کے عاشق تا تم شیطان کی گذرگاہوں سے امن میں آجاؤ کیونکہ شیطان کوہمیشہ رات سے غرض ہے دن سے کچھ غرض نہیں کیونکہ وہ پُرا نا چور ہے جو تاریکی میں قدم رکھتا ہے۔ سورۃ فاتحہ نری تعلیم ہی نہیں بلکہ اس میں ایک بڑی پیشگوئی بھی ہے اور وہ یہ کہ خدا نے