اپنی چاروں صفات ربو۱بیت، رحما۲نیت، رحیمیت ۳ ، مالکیت۴ یوم الدین یعنی اقتدارجزا وسزا کا ذکر کر کے اور اپنی عام قدرت کا اظہار فرما کر پھر اس کے بعد کی آیتوں میں یہ دعا سکھلائی ہے کہ خدا یا ایسا کر کہ گزشتہ راستباز نبیوں رسولوں کے ہم وارث ٹھہرائے جائیں ان کی راہ ہم پر کھولی جائے اُن کی نعمتیں ہم کو دی جائیں خدایا ہمیں اس سے بچا کہ ہم اس قوم میں سے ہو جائیں جن پر دنیا میں ہی تیرا عذاب نازل ہوا یعنی یہود جو حضرت عیسٰی مسیح کے وقت میں تھی جو طاعون سے ہلاک کی گئی۔ خدایا ہمیں اس سے بچاکہ ہم اُس قوم میں سے ہو جائیں جن کے شامل حال تیری رہنمائی نہ ہوئی اور وہ گمراہ ہوگئی یعنی نصاریٰ ۔اس دعا میں یہ پیشگوئی مخفی ہے کہ بعض مسلمانوں میں سے ایسے ہوں گے کہ وہ اپنے صدق و صفا کی وجہ سے پہلے نبیوؔ ں کے وارث ہو جائیں گے اور نبوت اور رسالت کی نعمتیں پائیں گے اور بعض ایسے ہوں گے کہ وہ یہودی صفت ہو جائیں گے جن پر دنیا میں ہی عذاب نازل ہو گا اور بعض ایسے ہوں گے کہ وہ عیسائیت کا جامہ پہن لیں گے۔ کیونکہ خدا کے کلام میں یہ سنّت مستمرہ ہے کہ جب ایک قوم کو ایک کام سے منع کیا جاتا ہے تو ضرور بعض ان میں سے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے علم میں اُس کام کے مرتکب ہونے والے ہوتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ وہ نیکی اور سعادت کا حصہ لیتے ہیں ابتدائے دنیا سے اخیر تک جس قدر خدا نے کتابیں بھیجیں اُن تمام کتابوں میں خدا تعالیٰ کی یہ قدیم سنّت ہے کہ جب وہ ایک قوم کو ایک کام سے منع کرتا ہے یا ایک کام کی رغبت دیتا ہے تو اس کے علم میں یہ مقدّر ہوتا ہے کہ بعض اُس کام کو کریں گے اور بعض نہیں۔ پس یہ سورۃ پیشگوئی کر رہی ہے کہ کوئی فرد اس اُمت میں سے کامل طور پر نبیوں کے رنگ میں ظاہر ہوگا تا وہ پیشگوئی جو آیت 3 3 ۱؂سے مستنبط ہوتی ہے وہ اکمل اور اتم طور پر پوری ہو جائے اور کوئی گروہ ان میں سے ان یہودیوں کے رنگ میں ظاہر ہوگا جن پر حضرت عیسیٰ نے *** کی تھی اور وہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہوئے تھے تا وہ پیشگوئی جو آیت 3۲؂ سے مستنبط ہوتی ہے