بچا کہ ہم تیری مدد سے بے نصیب رہ کر گمراہ نہ ہو جاویں۔آمین اب اس تمام تحقیقات سے انجیل کی دعا اور قرآن کی دعا میں فرق ظاہر ہوگیا کہ انجیل تو خدا کی بادشاہت آنے کا ایک وعدہ کرتی ہے مگر قرآن بتلاتا ہے کہ خدا کی بادشاہت تم میں موجود ہے نہ صرف موجود بلکہ عملی طور پر تم پر فیض بھی جاری ہیں غرض انجیل میں تو صرف ایک وعدہ ہی ہے مگر قرآن نہ محض وعدہ بلکہ قائم شدہ بادشاہت اور اس کے فیوض کو دکھلارہا ہے اب قرآن کی فضیلت اس سے ظاہر ہے کہ وہ اُس خدا کو پیش کرتا ہے جو اسی زندگی دنیا میں راست بازوں کا منجی اور آرام دہ ہے اور کوئی نفس اُس کے فیض سے خالی نہیں بلکہ ہر ایک نفس پر حسب اسؔ کی ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت کا فیض جاری ہے مگر انجیل اس خدا کو پیش کرتی ہے جو ابھی اس کی بادشاہت دنیا میں نہیں آئی صرف وعدہ ہے اب سوچ لو کہ عقل کس کو قابل پیروی سمجھتی ہے حافظ شیرازی نے سچ کہا ہے ؂ مرید پیر مغانم زمن مرنج اے شیخ چراکہ وعدہ تو کر دی و اوبجا آورد اور انجیلوں میں حلیموں، غریبوں، مسکینوں کی تعریف کی گئی ہے اور نیز اُن کی تعریف جوستائے جاتے ہیں اور مقابلہ نہیں کرتے مگر قرآن صرف یہی نہیں کہتا کہ تم ہر وقت مسکین بنے رہو اور شر کا مقابلہ نہ کرو بلکہ کہتا ہے کہ حلم اور مسکینی اور غربت اور ترک مقابلہ اچھا ہے مگر اگر بے محل استعمال کیا جائے تو بُرا ہے پس تم محل اور موقع کو دیکھ کر ہر ایک نیکی کرو کیونکہ وہ نیکی بدی ہے جو محل اور موقع کے برخلاف ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ مینہ کس قدر عمدہ اور ضروری چیز ہے لیکن اگر وہ بے موقع ہو تو وہی تباہی کا موجب ہو جاتا ہے تم دیکھتے ہو کہ ایک ہی سرد غذا یا گرم غذا کی مداومت سے تمہاری صحت قائم نہیں رہ سکتی بلکہ صحت تبھی قائم رہے گی کہ جب موقع اور محل کے موافق تمہارے کھانے اور پینے کی چیزوں میں تبدیلی ہوتی رہے پس درشتی اور نرمی اور عفو اور انتقام اور دعا اوربددعا اور دوسرے اخلاق میں جو تمہارے لئے مصلحت وقت ہے وہ بھی اسی تبدیلی کو چاہتی ہے اعلیٰ درجہ کے حلیم اور خلیق بنو لیکن