یا زمین کا کوئی اور خدا ہے جو زمین پر مخالفانہ قبضہ رکھتا ہے اور عیسائیوں کو اس بات پر زور دینا اچھا نہیں کہ صرف آسمان میں ہی خدا کی بادشاہت ہے جو ابھی زمین پر نہیں آئی کیونکہ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ آسمان کچھ چیز نہیں اب ظاہر ہے کہ جبکہ آسمان کچھ چیز نہیں جس پر خدا کی بادشاہت ہو اور زمین پر ابھی خدا کی بادشاہت آئی نہیں تو گویا خدا کی بادشاہت کسی جگہ بھی نہیں۔ ماسوا اس کے ہم خدا کی زمینی بادشاہت کو بچشم خود دیکھ رہے ہیں اُس کے قانون کے موافق ہماری عمریں ختم ہو جاتی ہیں اور ہماری حالتیں بدلتی رہتی ہیں اور صدہا رنگ کے راحت اور رنج ہم دیکھتے ہیں ہزار ہا لوگ خدا کے حکم سے مرتے ہیں اور ہزارہا پیدا ہوتے ہیں دعائیں قبول ہوتی ہیں نشان ظاہر ہوتے ہیں زمین ہزارہا قسم کے نباتات اور پھل اور پھول اس کے حکم سے پیدا کرتی ہے تو کیا یہ سب کچھ خدا کی بادشاہت کے بغیر ہو رہا ہے بلکہ آسمانی اجرام تو ایک ہی صورت اور منوال پر چلے آتے ہیں اور اُن میں تغییر تبدیل جس سے ایک مغیر مبدل کا پتہ ملتا ہو کچھ محسوس نہیں ہوتی مگر زمین ہزارہا تغیرات اور انقلابات اور تبدلات کا نشانہ ہو رہی ہے ہر روز کروڑ ہا انسان دنیا سے گزرتے ہیں اور کروڑ ہا پیدا ہوتے ہیں اور ہر ایک پہلو اور ہر ایک طور سے ایک مقتدر صانع کا تصرف محسوس ہو رہا ہے تو کیا ابھی تک خدا کی بادشاہت زمین پر نہیں اور انجیل نے اس پر کوئی دلیل پیش نہیں کی کہ کیوں ابھی تک خدا کی بادشاہت زمین پر نہیں آئی۔ البتہ مسیح کا باغ میں اپنے بچ جانے کے لئے ساری رات دعا کرنا اور دعا قبول بھی ہو جانا جیسا کہ عبرانیاں ۵۔آیت ۷ میں لکھا ہے مگر پھر بھی خدا کا اُس کے چھڑانے پر قادر نہ ہونا یہ بزعم عیسائیاں ایک دلیل ہو سکتی ہے کہ اُس زمانہ میں خدا کی بادشاہت زمین پر نہیں تھی مگر ہم نے اس سے بڑھ کر ابتلادیکھے ہیں اور اُن سے نجات پائی ہے ہم کیونکر خدا کی بادشاہت کا انکار کر سکتے ہیں کیا وہ خون کا مقدمہ جو میرے قتل کرنے کے لئے مارٹن کلارک کی طرف سےؔ عدالت کپتان ڈگلس میں پیش ہوا تھا وہ اُس مقدمہ سے کچھ خفیف تھا جو محض مذہبی اختلاف کی وجہ سے نہ کسی خون کے اتہام سے یہودیوں کی طرف سے عدالت